زکوٰۃکسپرفرضہے؟
مشترکہخاندانمیںبیوی،بیٹی،بہوؤںکیزکوٰۃکسطرحدیجائے؟
سوال:۔
میں گھر کا سربراہ ہوں، میرے دونوں لڑکے صاحبِ روزگار ہیں، اور میری دونوں بہوؤں کے ہاں کم سے کم ۱۲، ۱۲ تولے فی کس زیورات ہیں، اور بیوی کے ہاں ۵ تولے کے زیور اور کنواری لڑکی کی شادی کے لئے ۳ تولے کے زیورات ہیں، جس کو ایک سال سے خرید کر رکھا ہوا ہے، دُوسرے آج کل مشترکہ خاندان میں بھی زیور ہر متعلقہ عورت کی ذاتی ملکیت ہی شمار ہوتا ہے، ایک عورت کا زیور دُوسری عورت مستقل طور سے نہیں لے سکتی، حتیٰ کہ ساس اپنی بہو کا زیور اپنی لڑکی کو نہیں دے سکتی، کیا ایسی صورت میں مجھے گھر کے تمام زیور کی مالیت کے مطابق زکوٰۃ نکالنا چاہئے یا فرداً فرداً کے حساب سے؟
جواب:۔
زکوٰۃ کے واجب ہونے میں ہر شخص کی اِنفرادی ملکیت کا اعتبار ہے۔(۱) اب آپ کی بہوؤں کے پاس جو زیور ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس کا مالک کون ہے؟ آپ کی بہوؤں کا زیور اگر ان کی ملکیت ہے تو زکوٰۃ ان کے ذمہ واجب ہے، اور اگر لڑکوں کی ملکیت ہے تو زکوٰۃ ان کے ذمہ واجب ہے، اور اگر کچھ زیور بہوؤں کی ملکیت ہے، مثلاً: جو زیور ان کے میکے سے ملا ہے، اور کچھ لڑکوں کی طرف سے، تو اگر ہر ایک کی ملکیت نصاب کو پہنچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ نہیں۔ اسی طرح آپ کی اہلیہ کے پاس جو سونا ہے وہ اگر اس کی مالک ہیں اور اس کے سوا ان کی ملکیت میں کوئی روپیہ پیسہ نہیں تو ان کے ذمہ زکوٰۃ نہیں، اور اگر وہ سونا آپ کی ملکیت ہے تو دُوسرے اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ اس زیور کی زکوٰۃ بھی آپ کے ذمہ ہوگی۔ آپ نے لڑکی کے لئے جو سونا خرید کر رکھا ہوا ہے، اس کے بارے میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آپ نے وہ سونا لڑکی کی ملکیت کردیا ہے یا نہیں؟ اگر لڑکی کی ملکیت نہیں تو اس کی زکوٰۃ آپ کے ذمہ ہے، اور اگر لڑکی کی ملکیت ہے اور اس کے پاس کوئی نقد روپیہ پیسہ نہیں تو اس پر زکوٰۃ نہیں، اور اگر کچھ روپیہ پیسہ بھی اس کے پاس ہے تو زکوٰۃ اس کے ذمہ واجب ہے۔(۲)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصابًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۵)، وسببہ أی سبب إفتراضھا ملک نصاب حولی ۔۔۔ تام ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۵۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) وتضم قیمۃ العروض إلی الثمنین والذھب إلی الفضۃ قیمۃ کذا فی الکنز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹)۔

