زکوٰۃکسپرفرضہے؟
نصابمیںاِنفرادیملکیتکااعتبارہے
سوال:۔
کسی گھر میں تین بھائی اکٹھے رہتے ہوں، ایک ہی جگہ کھاتے ہوں، لیکن کماتے الگ ہوں، ہر ایک کی بیوی کے پاس اڑھائی یا تین تولے سونا ہو اور سب کا ملاکر تقریباً ساڑھے آٹھ تولے سونا بنتا ہو تو کیا ان کو اس زیور کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
جواب:۔
اگر ان کے پاس اور کوئی مال نہیں جس پر زکوٰۃ فرض ہو اور وہ نصاب کی حد کو پہنچتا ہو تو ان پر زکوٰۃ فرض نہیں، کیونکہ نصابِ زکوٰۃ میں اِنفرادی ملکیت کا اعتبار ہے، اور یہاں کسی کی اِنفرادی ملکیت بقدرِ نصاب نہیں۔(۱)
- (۱) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصابًا ملکًا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۵)۔ وسببہ أی سبب إفتراضھا ملک نصاب حولی ۔۔۔ تام ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۲ ص:۲۵۹)۔ ومنھا الملک التام وھو ما اجتمع فیہ الملک والید وأما إذا وجد الملک دون الید کالصداق قبل القبض أو وجد الید دون الملک کملک المکاتب والمدیون لَا تجب فیہ الزکٰوۃ کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲، کتاب الزکاۃ)۔

