زکوٰۃکسپرفرضہے؟
گزشتہسالوںکیزیورکیزکوٰۃ
سوال:۔
میری شادی کو نو سال ہوگئے ہیں، میری بیگم کے پاس جب سے اب تک تقریباً ۸۰ تولے سونا ہے، اور ہم نے ابھی تک اس پر زکوٰۃ ادا نہیں کی، کیونکہ میری آمدنی اتنی نہیں کہ کچھ بچ جائے تو زکوٰۃ ادا کروں۔ میری دو بچیاں بھی ہیں، وہ سونا میری بیوی کو جہیز میں ملا تھا، اور اگر اب میں زکوٰۃ ادا کرنا چاہوں تو کیسے ادا کروں؟ اور مجھ پر یا میری بیگم پر زکوٰۃ ضروری ہے جبکہ اتنی آمدنی نہیں؟
جواب:۔
اس اَسّی تولے کی زکوٰۃ آپ کے ذمہ نہیں، بلکہ آپ کی بیوی کے ذمہ ہے، اگر زکوٰۃ ادا کرنے کے پیسے نہ ہوں تو اتنا حصہ زیور کا دے دیا جائے۔(۱) بہرحال گزشتہ نو سالوں کی زکوٰۃ آپ کی بیوی کے ذمہ لازم ہے، ہر سال کا حساب کرکے جتنی زکوٰۃ بنتی ہے ادا کی جائے۔(۲)
- (۱) وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ۔ منھا العقل والبلوغ ومنھا کون المال نصابًا فلا تجب فی أقل منہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۳)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی ملک المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب أن لَا یختلفا فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۷، ۱۰۸، باب زکاۃ الحلی، طبع سھیل اکیڈمی)۔
- (۲) إمداد الفتاویٰ ج:۲ ص:۳۴ کتاب الزکاۃ والصدقات، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی۔

