زکوٰۃکسپرفرضہے؟
بیٹیکےلئےزیورپرزکوٰۃ
سوال:۔
میں زکوٰۃ کے بارے میں کچھ زیادہ محتاط ہوں، اس لئے اس فرض کو باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتی ہوں، تو قبلہ! میں نے لوگوں کی زبانی سنا ہے کہ ’’ماں اگر اپنا زیور اپنی لڑکی کے لئے اُٹھا رکھے یا یہ نیت کرے کہ یہ سونا میں اپنی بیٹی کو جہیز میں دوں گی تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اور جب یہ زیور یا سونا لڑکی کو ملے تو وہ اس کو پہن کر یا استعمال میں لاکر زکوٰۃ ادا کرے‘‘ آپ یہ وضاحت کریں کہ لڑکی کے لئے کوئی زیور بنواکر رکھا جائے تو زکوٰۃ دی جائے یا نہیں؟
جواب:۔
اگر لڑکی کو زیور کی مالک بنادیا تو جب تک وہ لڑکی نابالغ ہے اس پر زکوٰۃ نہیں،(۱) بالغ ہونے کے بعد لڑکی کے ذمہ زکوٰۃ واجب ہوگی، جبکہ صرف یہ زیور یا اس کے ساتھ کچھ نقدی نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے، صرف یہ نیت کرنے سے کہ یہ زیور لڑکی کے جہیز میں دیا جائے گا، زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں قرار دیا جاسکتا، جب تک کہ لڑکی کو اس کا مالک نہ بنادیا جائے، اور لڑکی کو مالک بنادینے کے بعد پھر اس زیور کا خود پہننا جائز نہیں ہوگا۔(۲)
- (۱) وأما شرط وجوبھا ۔۔۔ ومنھا العقل والبلوغ فلیس الزکٰوۃ علٰی صبی ومجنون ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۲، کتاب الزکاۃ)۔ أیضًا: وشرط إفتراضھا عقل وبلوغ وإسلام۔ (قولہ عقل وبلوغ) فلا تجب علٰی مجنون وصبی لأنھا عبادۃ محضۃ ولیسا مخاطبین بھا۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب الزکاۃ، مطلب فی أحکام المعتوہ)۔
- (۲) کتاب الزکاۃ (ھی) لغۃ الطھارۃ والنماء، وشرعًا (تملیک) خرج الْإباحۃ، فلو أطعم یتیمًا ناویًا الزکاۃ لَا یجزیہ إلّا إذا دفع إلیہ المطعوم ۔۔۔ (جزء مال) خرج المنفعۃ ۔۔۔ (عینہ الشارع) وھو ربع عشر نصاب حولی ۔۔۔ (من مسلم فقیر) ولو معتوھا غیر ھاشمی ولَا مولَاہ مع قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ۔ (درمختار مع تنویر الأبصار ج:۲ ص:۲۵۶ تا ۲۵۸، کتاب الزکاۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

