زکوٰۃکسپرفرضہے؟
مرحومشوہرکیزکوٰۃبیویپرفرضنہیں
سوال:۔
اگر کسی کا شوہر فوت ہوگیا ہو اور میاں بیوی نے اپنی زندگی میں کبھی زکوٰۃ نہ دی ہو، مگر خیرات برابر کرتے رہے ہوں، تو کیا اب اس بیوہ کا فرض ہے کہ وہ گزرے دنوں کی زکوٰۃ ادا کرے؟
سوال:۔
اور کیا اپنی بھی زکوٰۃ وہ مرنے تک دیتی رہے، جبکہ اس کا ذریعہ آمدنی کوئی نہیں ہے؟
جواب:۔
مرحوم شوہر کی زکوٰۃ بیوہ کے ذمہ فرض نہیں، اس کے مرحوم شوہر کے ذمہ ہے، وہی گناہگار ہوگا،(۱) اس کی طرف سے وارث ادا کردیں تو اچھا ہے۔(۲)
جواب:۔
اگر اس کی اپنی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت ہے، اس پر زکوٰۃ فرض ہے،(۳) یعنی اس کے اپنے حصے کی مالیت اتنی ہو، (اگر مرحوم کے بچے یتیم ہوں تو ان کے مال کی زکوٰۃ نہیں)۔(۴)
- (۱) وإذا لم یؤدّ إلٰی آخر عمرہ یتضیق علیہ الوجوب، حتّی لو لم یؤدّ حتّی مات یأثم۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۷۱)۔
- (۲) فی الدر المختار: ولَا تؤخذ من ترکتہ بغیر وصیّۃ لفقد شرطھا وھو النیۃ وإن أوصی بھا اعتبر من الثلث إلّا أن یجیز الورثۃ۔ وفی الشرح: أی إذا أوصٰی بھا وزادت علی الثلث یؤخذ الزائد إلّا أن یجیز الورثۃ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۲۹۴)۔
- (۳) گزشتہ حاشيه: وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ۔
- (۴) (قولہ عقل وبلوغ) فلا تجب علٰی مجنون وصبی لأنھما عبادۃ محضۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب الزکاۃ)۔

