بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کس‌پر‌فرض‌ہے؟

شوہر‌بیوی‌کے‌زیور‌کی‌زکوٰۃ‌ادا‌کرسکتا‌ہے

سوال:۔

میں نے شادی کے وقت اپنی بیوی کو حق المہر میں ۱۳ تولے سونا دیا تھا، کیا یہ جائز ہے؟ اور ۳تولے سونا وہ اپنے میکے سے لائی تھیں، چونکہ کل سونا ۱۶ تولے پڑا، اب میری بیوی اگر زکوٰۃ ۱۶ تولے پر نہیں دے سکتی تو کیا اس کی یہ زکوٰۃ میں اپنے خرچ سے دے سکتا ہوں؟ اور پھر یاد رہے کہ یہ حق المہر بھی میں نے ہی ادا کیا تھا؟

سوال:۔

میرے پاس آٹھ تولے سونا ہے جو کہ پچھلے سال شادی پر ملا تھا، اور وہ میری بیوی کی ملکیت میں ہے، اس کے ساتھ ساتھ مجھ پر قرضہ بھی ہے، اس صورت میں ان زیورات کی زکوٰۃ مجھ پر ہوگی یا بیوی پر؟ ۲: زیورات پر زکوٰۃ جبکہ آمدنی کا ذریعہ میں ہی ہوں قرض کی رقم نکال کر ادا کی جائے یا صرف زیورات کی رقم پر ادا کی جائے؟

جواب:۔

چونکہ سونا آپ کی بیوی کی ملکیت ہے، اس لئے اس کی زکوٰۃ تو اسی کے ذمہ ہے،(۱) لیکن اگر آپ اس کے کہنے پر اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردیں تو ادا ہوجائے گی۔(۲)

جواب:۔

۱:۔جب زیورات آپ کی بیوی کی ملکیت ہے تو زکوٰۃ بھی اسی کے ذمہ ہے۔(۳) ۲:۔زیور آپ کی بیوی کا ہے، اور قرض آپ کے ذمہ ہے، اس لئے زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس قرض کو منہا نہیں کیا جائے گا، بلکہ پورے زیور کی زکوٰۃ ادا کرے گی، البتہ اگر آپ کی بیوی کے ذمہ قرض ہو تو قرض منہا کیا جائے گا۔(۴)

  1. (۱) وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ۔ منھا العقل والبلوغ ومنھا کون المال نصابًا فلا تجب فی أقل منہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۳)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی ملک المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب أن لَا یختلفا فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۷، ۱۰۸، باب زکاۃ الحلی، طبع سھیل اکیڈمی)۔
  2. (۲) وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ: أی للأداء، ولو کانت المقارنۃ حکمًا۔ (درمختار)۔ وأما المقارنۃ للدفع إلی الوکیل فھی من الحکمیۃ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۶۸، کتاب الزکاۃ، مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء)۔
  3. (۳) گزشتہ حاشيه: وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ۔
  4. (۴) وإن کان مالہ أکثر من دینہ، زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا لفراغہ عن الحاجۃ الأصلیۃ، والمراد بہ دین لہ مطالب من جھۃ العباد۔ (ھدایۃ مع فتح القدیر ج:۱ ص:۴۸۶، کتاب الزکاۃ، طبع دار صادر)۔ وفی الدر المختار (ج:۲ ص:۲۶۳) کتاب الزکاۃ: فلا زکاۃ علٰی مکاتب ۔۔۔ ومدیون للعبد بقدر دینہ، فیزکی الزائد إن بلغ نصابًا (قولہ ومدیون للعبد) الأولٰی: ومدیون بدین یطالبہ بہ العبد یشمل دین الزکاۃ والخراج لأنہ ﷲ تعالٰی مع أنہ یمنع لأن لہ مطالبًا من جھۃ العباد۔