بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کس‌پر‌فرض‌ہے؟

زیور‌کی‌زکوٰۃ‌کس‌پر‌ہوگی؟

سوال:۔

میں نے چند ماہ پیشتر اپنے بیٹے کی شادی کی، حق مہر لکھواتے ہوئے میں نے لڑکی والوں کو کہا کہ حق مہر شرعی ہوگا، لیکن عین موقع پر لڑکی والوں نے کہا کہ سونا لڑکی کے نام لکھوادیں۔ میں نے اِنکار کردیا، لیکن میرے لڑکے نے کہا کہ لکھوادیں، ہم نے کونسا سونا واپس لینا ہے۔ میں نے اِجازت دے دی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ لڑکی سونے کی مالک بن کر صاحبِ نصاب ہوچکی ہے، جبکہ وہ ایک گھریلو خاتون ہے، اور کہیں ملازمت نہیں کرتی، اور نہ ہی اس کی کوئی جائیداد ہے، اب زکوٰۃ کی ادائیگی کون کرے گا؟ اور کس طرح کرے گا؟

جواب:۔

لڑکی صاحبِ نصاب ہے تو لڑکی کے مال کی زکوٰۃ بھی لڑکی کے ذمے ہے،(۱) خواہ وہ اپنا زیور بیچ کر زکوٰۃ دیا کرے، یا اپنے شوہر سے لے کر،(۲) واللہ اعلم!

  1. (۱) وأما شروط وجوبھا ۔۔۔إلخ۔ منھا العقل والبلوغ ومنھا کون المال نصابًا فلا تجب فی أقل منہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۳)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی ملک المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب أن لَا یختلفا فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۷، ۱۰۸، باب زکاۃ الحلی، طبع سھیل اکیڈمی)۔
  2. (۲) ولو کان لہ إبریق فضۃ، وزنہ مائتان، وقیمتہ لصیانہ ثلث مأۃ إن أدّی من العین یؤدی ربع عشرہ وھو خمسۃ قیمتھا سبعہ ونصف وإن أدی خمسۃً قیمتھا خمسۃ جاز، ولو أدی من خلاف جنسہ یعتبر القیمۃ إجماعًا۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، أیضًا: رد المحتار ج:۲ ص:۲۷۵، کتاب الزکاۃ)۔