زکوٰۃکسپرفرضہے؟
بیویکیزکوٰۃشوہرکےذمہنہیں
سوال:۔
ایک قلیل آمدنی والے شخص کی بیوی شادی کے موقع پر دس تولے سونا زیورات کی شکل میں لاتی ہے، کیا شوہر کے لئے ضروری ہے کہ ہر حال میں اس پر زکوٰۃ ادا کرے؟
جواب:۔
چونکہ یہ زیورات بیگم صاحبہ کی ملکیت ہیں، اس لئے اس زیور کی زکوٰۃ بیگم صاحبہ کے ذمہ ہے، غریب شوہر کے ذمہ نہیں۔ عورت کو چاہئے کہ ان زیورات کا بقدرِ واجب حصہ زکوٰۃ میں دے دیا کرے، اپنی زکوٰۃ شوہر کے ذمہ نہ ڈالے۔(۱)
ولو کان لہ إبریق فضۃ، وزنہ مائتان وقیمتہ لصاینہ ثلث مائۃ إن أدی من العین یؤدی ربع عشرہ، وھو خمسۃ قیمتھا سبعۃ ونصف، وإن أدی خمسۃً، قیمتھا خمسۃ، جاز، ولو أدی من خلاف جنسہ یعتبر القیمۃ إجماعًا۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الفصل الأوّل فی زکاۃ الذھب والفضۃ، طبع رشیدیہ)۔
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من صاحب ذھب ولَا فضۃ لَا یؤدی منھا حقھا إلّا إذا کان یوم القیامۃ صفحت لہ صفائح من نار، فَاُحْمِیَ علیھا فی نار جھنم فیکویٰ بھا جَنْبُہ وَجَبِیْنُہ وظھرہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۱۸، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع زکاۃ)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب ان لَا یختلف فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۷، ۱۰۸، باب زکاۃ الحلی، طبع سھیل اکیڈمی)۔

