زکوٰۃکسپرفرضہے؟
زیورکیزکوٰۃ
سوال:۔
جبکہ مرد حضرات پیسہ کماتے ہیں تو بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر کو دینی چاہئے یا بیوی کو اپنے جیب خرچ سے جوڑ کر؟ اگر شوہر زکوٰۃ ادا نہ کریں اگرچہ بیوی چاہتی ہو اور بیوی کے پاس روپیہ بھی نہ ہو کہ زکوٰۃ دے سکے تو گناہ کس کو ملے گا؟
جواب:۔
زیور اگر بیوی کی ملکیت ہے تو زکوٰۃ اسی کے ذمہ واجب ہے، اور زکوٰۃ نہ دینے پر وہی گناہگار ہوگی۔ شوہر کے ذمہ اس کا ادا کرنا لازم نہیں،(۱) بیوی یا تو اپنا جیب خرچ بچاکر زکوٰۃ ادا کرے یا زیوارت کا ایک حصہ زکوٰۃ میں دے دیا کرے۔(۲)
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من صاحب ذھب ولَا فضۃ لَا یؤدی منھا حقھا إلّا إذا کان یوم القیامۃ صفحت لہ صفائح من نار، فَاُحْمِیَ علیھا فی نار جھنم فیکویٰ بھا جَنْبُہ وَجَبِیْنُہ وظھرہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۱۸، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع زکاۃ)۔ أیضًا: لم یختلفوا أن الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل والمرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ فوجب ان لَا یختلف فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۷، ۱۰۸، باب زکاۃ الحلی، طبع سھیل اکیڈمی)۔
- (۲) ولو کان لہ إبریق فضۃ، وزنہ مائتان وقیمتہ لصاینہ ثلث مائۃ إن أدی من العین یؤدی ربع عشرہ، وھو خمسۃ قیمتھا سبعۃ ونصف، وإن أدی خمسۃً، قیمتھا خمسۃ، جاز، ولو أدی من خلاف جنسہ یعتبر القیمۃ إجماعًا۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الفصل الأوّل فی زکاۃ الذھب والفضۃ، طبع رشیدیہ)۔

