زکوٰۃکسپرفرضہے؟
اگرنابالغبچیوںکےنامسوناکردیاتوزکوٰۃکسپرہوگی؟
سوال:۔
میری تین بیٹیاں ہیں، عمر ۱۲ سال، ۱۰ سال اور ۸ سال۔ میں نے ان کی شادی کے لئے ۲۰ تولے سونا لے رکھا ہے، اس کے علاوہ اور دُوسری چیزیں مثلاً برتن کپڑے وغیرہ بھی آہستہ آہستہ جمع کر رہے ہیں، کیا ان چیزوں پر بھی زکوٰۃ دینا پڑے گی؟ بچیوں کے نام پر کوئی پیسہ وغیرہ جمع نہیں ہے۔
جواب:۔
اگر آپ نے اس سونے کا مالک اپنی بچیوں کو بنادیا ہے تو ان کے جوان ہونے تک تو ان پر زکوٰۃ نہیں،(۱) جوان ہونے کے بعد ان میں جو صاحبِ نصاب ہوں ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۲) اور اگر بچیوں کو مالک نہیں بنایا، ملکیت آپ ہی کی ہے، تو اس سونے پر زکوٰۃ فرض ہے، برتن کپڑے وغیرہ استعمال کی جو چیزیں آپ نے ان کے لئے رکھی ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں۔(۳)
- (۱) ومنھا العقل والبلوغ فلیس الزکٰوۃ علٰی صبی ومجنون ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۲)۔ وفی الفتاوی الشامیۃ (ج:۲ ص:۲۵۸) کتاب الزکاۃ: (قولہ عقل وبلوغ) فلا تجب علٰی مجنون وصبی لأنھا عبادۃ محضۃ، ولیسا مخاطبین بھا۔
- (۲) وسببہ أی سبب افتراضھا ملک نصاب حولی ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۲۵۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۳) ولَا فی ثیاب البدن وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوھا ۔۔۔ إذا لم تنو للتجارۃ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۴)۔ قولہ ونحوھا أی کثیاب البدن الغیر المحتاج إلیھا۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۶۵)۔

