زکوٰۃکےمسائل
زکوٰۃکےڈَرسےغیرمسلملکھوانا
سوال:۔
ایک صاحب نے ایک بیوہ عورت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو غیرمسلم لکھوادیں تو زکوٰۃ نہیں کٹے گی، کیا ایسا کرنے سے ایمان پر اثر نہیں ہوگا؟
جواب:۔
کسی شخص کا اپنے آپ کو غیرمسلم لکھوانا کفر ہے۔(۱) اور زکوٰۃ سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ڈبل کفر ہے، اور کسی کو کفر کا مشورہ دینا بھی کفر ہے۔(۲) پس جس شخص نے بیوہ کو غیرمسلم لکھوانے کا مشورہ دیا اس کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے، اور اگر بیوہ نے اس کے کفریہ مشورہ پر عمل کرلیا ہو تو اس کو بھی ازسرِنو ایمان کی تجدید کرنی چاہئے۔(۳)
اسی کے ساتھ حکومت کو بھی اپنے اس نظامِ زکوٰۃ پر نظرِثانی کرنی چاہئے جو لوگوں کو مرتد کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کی آسان صورت یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کے مال سے جتنی مقدار ’’زکوٰۃ‘‘ کے نام سے وصول کرتی ہے (یعنی اڑھائی فیصد) اتنی ہی مقدار غیرمسلموں کے مال سے ’’رفاہی ٹیکس‘‘ کے نام سے وصول کرلیا کرے، اس صورت میں کسی کو زکوٰۃ سے فرار کی راہ نہیں ملے گی اور غیرمسلموں پر رفاہی ٹیکس کا عائد کرنا کوئی ظلم و زیادتی نہیں، کیونکہ حکومت کے رفاہی کاموں سے استفادے میں غیرمسلم برادری بھی برابر کی شریک ہے، اور اس فنڈ کو غیرمسلم معذوروں کی مدد و اعانت اور خبرگیری میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔
- (۱) مسلم قال: أنا ملحد، یکفر، ولو قال: ما علمت أنہ کفر، لَا یعذر بھٰذا۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۹)۔ أیضًا الْإقرار بالکتابۃ کالْإقرار باللسان۔ (شرح المجلۃ ص:۹۰۰، الکتاب کالخطاب، أیضًا ص:۴۹، المادۃ۶۹)۔
- (۲) إذا لقن الرجل رجلًا کلمۃ الکفر فإنہ یصیر کافرًا وإن کان وجہ اللعب، وکذا إذا أمر رجل امرأۃ الغیر أن ترتدّ وتبین من زوجھا یصیر ھو کافرًا۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۵، ۲۷۶، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔
- (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳، کتاب السیر)۔

