بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کے‌مسائل

زکوٰۃ‌کی‌فرضیت‌کے‌منکر‌کے‌ساتھ‌کیا‌معاملہ‌کیا‌جائے؟

سوال:۔

میرا ایک دوست محمد صدیق ہے، جس کے ساتھ میری زکوٰۃ کے بارے میں بات ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رُکن ہے اور ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا تھا۔ اور جس مال میں سے زکوٰۃ نہ دی جائے وہ حرام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جس طرح کہ ہر مسلمان پر شراب اور خنزیر حرام ہے۔ وہ بولتا ہے کہ صرف ایک حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہی حکم دیا تھا، باقی تین خلفائے راشدینؓ، اس کے بعد بنو اُمیہ، اس کے بعد بنوعباسیہ، اس کے بعد عثمانیہ، خلفاؤں میں سے کسی نے حکم نہیں دیا۔ یعنی جہاد کا حکم نہیں دیا۔ اور جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، نہ وہ مرتد ہے اور نہ کسی بھی قسم کے اور زُمرے میں آتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بہت پڑھا لکھا تصوّر کرتا ہے۔

جواب:۔

زکوٰۃ اِسلام کا قطعی فریضہ اور اِسلام کا اہم ترین رُکن ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جن لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے اِنکار کیا، آپؓ نے ان کے خلاف جہاد کیا۔ بعد کے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں کسی نے اس سے انکار ہی نہیں کیا، اس لئے ان کو اس کی خاطر جہاد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس لئے آپ کے دوست کا اِستدلال غلط ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے: ’’اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری دیجئے۔ جس دن اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ خزانہ جو تم اپنے لئے جمع کرتے تھے، سو آج اس خزانے کے جمع کرنے کا مزہ چکھو‘‘ (التوبۃ:۳۴، ۳۵)۔(۱) جو شخص زکوٰۃ کی فرضیت کو مانتا ہے، لیکن غفلت اور بخل کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، وہ مرتد تو نہیں، لیکن فاسق اور بدکار ہے، اور اس کی سزا قبر اور حشر میں وہ ہوگی جو قرآنِ کریم کی مندرجہ بالا آیت میں ذِکر کی گئی ہے۔ اور جو شخص زکوٰۃ کو ضروری ہی نہیں سمجھتا، نہ اسے فرض سمجھتا ہے، وہ بلاشبہ مرتد ہے۔(۲) جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرینِ زکوٰۃ کے ساتھ کیا تھا۔(۳)

  1. (۱) ﵟ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٤ يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ ٣٥ ﵞ التوبة ٣٤ و ٣٥
  2. (۲) وأما صفتھا فھی فریضۃ محکمۃ یکفر جاحدھا ویقتل مانعھا، ھٰکذا فی محیط السرخسی۔ وتجب علی الفور عند تمام الحول حتّٰی یأثم بتأخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ الرازی علی التراخی حتّٰی یأثم عند الموت والأوّل أصح، کذا فی التھذیب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ)۔
  3. (۳) فالدلیل علٰی فرضیتھا الکتاب والسنۃ والْإجماع والمعقول ۔۔۔إلخ۔ (بدائع ج:۲ ص:۲)، وعن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: بُنی الْإسلام علٰی خمس: شھادۃ أن لَا إلٰہ إلّا اللہ وأن محمدًا عبدہ ورسولہ، وإقام الصلٰوۃ، وإیتاء الزکاۃ، والحج، وصوم رمضان۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۲)۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: لما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واستخلف ابوبکر بعدہ وکفر من کفر من العرب۔ قال عمر بن الخطاب لأبی بکر: کیف تقاتل الناس وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اُمرتُ أن اُقاتل الناس حتّٰی یقولوا لَا إلٰہ إلّا اللہ فمن قال لَا إلٰہ إلّا اللہ عصم مِنّی مالہ ونفسہ إلّا بحقہ وحسابہ علی اللہ ۔ فقال أبوبکر: لاُقاتلنّ من فرّق بین الصلٰوۃ والزکٰوۃ فإن الزکٰوۃ حق المال و اللہ ! لو منعونی عناقًا کانوا یؤدونھا إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقاتلتھم علٰی منعھا، قال عمر: و اللہ ما ھو إلّا رأیت أن اللہ شرح صدر أبی بکر للقتال فعرفت أنہ الحق۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۵۷، کتاب الزکاۃ، الفصل الثالث)۔