زکوٰۃکےمسائل
زکوٰۃاداکرنےکےفضائلاورنہدینےکاوبال
سوال:۔
زکوٰۃ دینے پر کیا خوشخبری اور نہ دینے پر کیا وعید ہے؟
جواب:۔
زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہوتا ہے، اور حق تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور نہ دینے سے مال ناپاک رہتا ہے، اور خدا تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔(۱) قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں زکوٰۃ نہ دینے کے بہت سے وبال بیان فرمائے گئے ہیں، ایسا مال سانپ کی شکل میں مال دار کو کاٹے گا اور کہے گا کہ میں تیرا وہی مال ہوں جس کو تو جمع کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا تھا۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں زکوٰۃ و صدقات کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں، اور زکوٰۃ نہ دینے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان کی تفصیل حضرت شیخ سیّدی و مرشدی مولانا محمد زکریا کاندہلوی مہاجرِ مدنی نوّر اللہ مرقدہٗ کی کتاب ’’فضائلِ صدقات‘‘ میں دیکھ لی جائے، یہاں اختصار کے پیشِ نظر ایک ایک آیت اور حدیث فضائل میں، اور ایک ایک آیت اور حدیث وعید میں نقل کرتا ہوں۔
زکوٰۃ و صدقات کی فضیلت:
ﵟ مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنۢبُلَةٖ مِّاْئَةُ حَبَّةٖۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٢٦١ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُونَ مَآ أَنفَقُواْ مَنّٗا وَلَآ أَذٗى لَّهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٦٢ ﵞ البقرة ٢٦١ و ٢٦٢
ترجمہ:۔’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کئے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانے کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جمیں (اور) ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں جاننے والے ہیں۔ جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو (اس پر) اِحسان جتاتے ہیں اور نہ (برتاؤ سے) اس کو آزار پہنچاتے ہیں، ان لوگوں کو ان (کے اعمال) کا ثواب ملے گا ان کے پروردگار کے پاس، اور نہ ان پر کوئی خطر ہوگا اور نہ یہ مغموم ہوں گے۔‘‘ (ترجمہ: حضرت تھانویؒ)
حدیث:۔ ’’عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ، وَلَا یَقْبَلُ اللّٰهُ إِلَّا الطَّیِّبَ، فَإِنَّ اللّٰهَ یَتَقَبَّلُہَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم، مشکوٰۃ ص:۱۶۷ باب فضل الصدقہ)
ترجمہ:۔’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایک کھجور کے دانے کے برابر پاک کمائی سے صدقہ کرے، اور اللہ تعالیٰ صرف پاک ہی کو قبول فرماتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دست میں لے کر قبول فرماتے ہیں، پھر اس کے مالک کے لئے اس کی پرورش فرماتے ہیں، جس طرح کہ تم میں سے ایک شخص اپنی گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک کھجور کے دانے کا صدقہ قیامت کے دن) پہاڑ کے برابر ہوجائے گا۔‘‘
زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر وعید:
ﵟ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٤ يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ ٣٥ ﵞ التوبة ٣٤ و ٣٥
ترجمہ:۔’’جو لوگ سونا چاندی جمع کر کر رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، سو آپ ان کو ایک بڑی دردناک سزا کی خبر سنادیجئے۔ کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں (اوّل) تپایا جاوے گا، پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا، یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کرکے رکھا تھا، سو اَب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔‘‘ (ترجمہ: حضرت تھانویؒ)
حدیث:۔ ’’عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّیْ زَکٰوۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَہُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا۔ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَابِ اللّٰهِ: ﵟ وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ ﵞالآیۃ۔‘‘
(رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ، مشکوٰۃ ص:۱۵۷، کتاب الزکوٰۃ)
ترجمہ:۔’’حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کی آیت ہمیں پڑھ کر سنائی۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ہر گز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لئے اچھی ہوگی، بلکہ یہ بات ان کی بہت بُری ہے، وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنادئیے جائیں گے اس کا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۰، ترجمہ: حضرت تھانویؒ)
(۱) أن الزکاۃ تطھر نفس المؤدی عن أنجاس الذنوب وتزکی أخلاقہ بتخلق الجود والکرم وترک الشح والضن إذ الأنفس مجبولۃ علی الضن بالمال فتتعود السماحۃ وترتاض لأداء الأمانات وإیصال الحقوق إلٰی مستحقیھا وقد تضمن ذالک کلہ خذ من أموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۳، کتاب الزکاۃ)۔ ولَا تجب علی الأنبیاء لأن الزکاۃ طھرۃ لمن عساہ أن یتدنس والأنبیاء مبرؤن منہ ۔۔۔ لأن مقتضی جعل عدم الزکاۃ من خصوصیاتھم أنہ لَا فرق بین زکاۃ المال والبدن۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۵۶ کتاب الزکاۃ)۔

