زکوٰۃکےمسائل
زکوٰۃ،دولتکیتقسیمکااِنقلابینظام
سوال:۔
زکوٰۃ سے عوام کو کیا فوائد ہیں؟ یہ بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے جس کو رفاہِ عامہ پر خرچ کرنا چاہئے، اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالئے۔
جواب:۔
میں آپ کے مجمل سوال کو پانچ عنوانات پر تقسیم کرتا ہوں، زکوٰۃ کی فرضیت، زکوٰۃ کے فوائد، زکوٰۃ ٹیکس نہیں بلکہ عبادت ہے، زکوٰۃ کے ضروری مسائل اور زکوٰۃ کے مصارف۔
زکوٰۃ کی فرضیت:
زکوٰۃ، اسلام کا اہم ترین رُکن ہے، قرآنِ کریم میں اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں بھی اس کی اہمیت و افادیت اور اس کے ادا نہ کرنے کے وبال کو بہت ہی نمایاں کیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
ﵟ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٤ يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ ٣٥ ﵞ التوبة ٣٤ و ٣٥
ترجمہ:۔’’جو لوگ سونے اور چاندی کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔ جس دن ان سونے، چاندی کے خزانوں کو جہنم کی آگ میں تپاکر ان کے چہروں، ان کی پشتوں اور ان کے پہلوؤں کو داغا جائے گا، (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہ تھا تمہارا مال جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، پس اپنے جمع کئے کی سزا چکھو۔‘‘
حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، ۱:اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ ۲: نماز قائم کرنا۔ ۳: زکوٰۃ ادا کرنا۔ ۴:بیت اللہ کا حج کرنا۔ ۵:رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔
’’قَالَ عَبْدُاللّٰهِ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُولُہٗ، وَإِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَإِیْتَاءُ الزَّکٰوۃِ وَحَجُّ الْبَیْتِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ۔‘‘(رواہ البخاری ومسلم واللفظ لہٗ ج:۱ ص:۳۲)
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’جس شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی، اس نے اس کے شر کو دُور کردیا۔‘‘
’’مَنْ أَدَّی زَکٰوۃَ مَالِہٖ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ شَرُّہٗ۔‘‘ (کَنزُ الْعُمَّالِ حَدِیْث: ۱۵۷۷۸، مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ ج:۳ ص:۶۳، وَقَالَ الْہَیْثَمِیُّ رَوَاہُ الطَّبَرَانِیُّ فِی الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُہٗ حَسَنٌ وَإِنْ کَانَ فِی بَعْضِ رِجَالِہٖ کَلَامٌ)
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی، اس سے تم سبکدوش ہوگئے۔‘‘
’’عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَدَّیْتَ زَکٰوۃَ مَالِکَ فَقَدْ قَضَیْتَ مَا عَلَیْکَ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۷۸، ابنِ ماجہ ص: ۱۲۸، مطبوعہ نور محمد کارخانہ کراچی)
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعہ محفوظ کرو، اپنے بیماروں کا صدقے سے علاج کرو، اور مصائب کے طوفانوں کا دُعا و تضرع سے مقابلہ کرو۔‘‘(۱)
ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت میں اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا، اور اس کی گردن سے لپٹ کر گلے کا طوق بن جائے گا۔‘‘
’’عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ لَا یُؤَدِّیْ زَکٰوۃَ مَالِہٖ إِلَّا مُثِّلَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ حَتّٰی یُطَوِّقَ عُنُقَہٗ۔‘‘ (سننِ نسائی ج:۱ ص:۳۳۳، و سننِ ابنِ ماجہ ص:۱۲۸، واللفظ لہٗ)
اس مضمون کی بہت سی احادیث ہیں، جن میں زکوٰۃ نہ دینے پر قیامت کے دن ہولناک سزاؤں کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
زکوٰۃ کے فوائد:
حق تعالیٰ شانہ نے جتنے اَحکام اپنے بندوں کے لئے مقرّر فرمائے ہیں ان میں بے شمار حکمتیں ہیں جن کا انسانی عقل احاطہ نہیں کرسکتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا فریضہ عائد کرنے میں بھی بہت سی حکمتیں رکھی ہیں، اور سچی بات یہ ہے کہ یہ نظام ایسا پاکیزہ و مقدس اور اتنا اعلیٰ و ارفع ہے کہ انسانی عقل اس کی بلندیوں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہے، یہاں چند عام فہم فوائد کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔
۱:۔ آج پوری دُنیا میں سوشلزم کی بات ہو رہی ہے، جس میں غریبوں کی فلاح و بہبود کا نعرہ لگاکر انہیں متمول طبقے کے خلاف اُکسایا جاتا ہے، اس تحریک سے غریبوں کا بھلا کہاں تک ہوتا ہے؟ یہ ایک مستقل موضوع ہے، مگر یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ امیر و غریب کی یہ جنگ صرف اس لئے پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے متمول طبقے کے ذمہ پسماندہ طبقے کے جو حقوق عائد کئے تھے ان سے انہوں نے پہلو تہی کی، اگر پورے ملک کی دولت کا چالیسواں حصہ ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا جائے اور یہ عمل ایک وقتی سی چیز نہ رہے، بلکہ ایک مسلسل عمل کی شکل اختیار کرلے، اور امیر طبقہ کسی ترغیب و تحریص اور کسی جبر و اکراہ کے بغیر ہمیشہ یہ فریضہ ادا کرتا رہے اور پھر اس رقم کی منصفانہ تقسیم مسلسل ہوتی رہے تو کچھ عرصے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ غرباء کو امیروں سے شکایت ہی نہیں رہے گی، اور امیر و غریب کی جس جنگ سے دُنیا جہنم کدہ بنی ہوئی ہے، وہ اس نظام کی بدولت راحت و سکون کی جنت بن جائے گی۔
میں صرف پاکستان کی ملتِ اسلامیہ سے نہیں، بلکہ دُنیا بھر کے انسانوں اور معاشروں سے کہتا ہوں کہ وہ اسلام کے نظامِ زکوٰۃ کو نافذ کرکے اس کی برکات کا مشاہدہ کریں اور سرمایہ دار ملکوں کی جتنی دولت کمیونزم کا مقابلہ کرنے پر صَرف ہو رہی ہے وہ بھی اسی مد میں شامل کرلیں۔
۲:۔ مال و دولت کی حیثیت انسانی معیشت میں وہی ہے جو خون کی بدن میں ہے، اگر خون کی گردش میں فتور آجائے تو انسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے، اور بعض اوقات دِل کا دورہ پڑنے سے انسان کی اچانک موت واقع ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر دولت کی گردش منصفانہ نہ ہو، تو معاشرے کی زندگی خطرے میں ہوتی ہے، اور کسی وقت بھی حرکتِ قلب بند ہوجانے کا خوف طاری رہتا ہے۔ حق تعالیٰ نے دولت کی منصفانہ تقسیم اور عادلانہ گردش کے لئے جہاں اور بہت سی تدبیریں ارشاد فرمائی ہیں، ان میں سے ایک زکوٰۃ و صدقات کا نظام بھی ہے، اور جب تک یہ نظام صحیح طور پر نافذ نہ ہو اور معاشرہ اس نظام کو پورے طور پر ہضم نہ کرلے تب تک نہ دولت کی منصفانہ گردش کا تصوّر کیا جاسکتا ہے، اور نہ معاشرہ اختلال و زوال سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
۳:۔ پورے معاشرے کو ایک اکائی تصوّر کیجئے، اور معاشرے کے افراد کو اس کے اعضاء سمجھئے، آپ جانتے ہیں کہ کسی حادثے یا صدمے سے کسی عضو میں خون جمع ہوکر منجمد ہوجائے تو وہ گل سڑکر پھوڑے پھنسی کی شکل میں پیپ بن کر بہ نکلتا ہے۔ اسی طرح جب معاشرے کے اعضاء میں ضرورت سے زیادہ خون جمع ہوجاتا ہے تو وہ بھی سڑنے لگتا ہے، اور پھر کبھی تعیش پسندی اور فضول خرچی کی شکل میں نکلتا ہے، کبھی عدالتوں اور وکیلوں کے چکر میں ضائع ہوتا ہے، کبھی بیماریوں اور اسپتالوں میں لگتا ہے، کبھی اُونچی اُونچی بلڈنگوں اور محلات کی تعمیرات میں برباد ہوجاتا ہے (اور اس بربادی کا احساس آدمی کو اس وقت ہوتا ہے جب اس کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوجاتے ہیں اور اسے بیک بینی و دوگوش یہاں سے باہر نکال دیا جاتا ہے)۔
قدرت نے زکوٰۃ و صدقات کے ذریعہ ان پھوڑے پھنسیوں کا علاج تجویز کیا ہے، جو دولت کے انجماد کی بدولت معاشرے کے جسم پر نکل آتی ہیں۔
۴:۔ اپنے بنی نوع سے ہمدردی، انسانیت کا عمدہ ترین وصف ہے، جس شخص کا دِل اپنے جیسے انسانوں کی بے چارگی، غربت و افلاس، بھوک، فقر و فاقہ اور تنگ دستی و زبوں حالی دیکھ کر نہیں پسیجتا، وہ انسان نہیں جانور ہے، اور چونکہ ایسے موقعوں پر شیطان اور نفس، انسان کو انسانی ہمدردی میں اپنا کردار ادا کرنے سے باز رکھتے ہیں، اس لئے بہت کم آدمی اس کا حوصلہ کرتے ہیں، حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کمزور بندوں کی مدد کے لئے امیر لوگوں کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا ہے، تاکہ اس فریضۂ خداوندی کے سامنے وہ کسی نادان دوست کے مشورے پر عمل نہ کریں۔
۵:۔ مال، جہاں انسانی معیشت کی بنیاد ہے، وہاں انسانی اخلاق کے بنانے اور بگاڑنے میں بھی اس کو گہرا دخل ہے، بعض دفعہ مال کا نہ ہونا انسان کو غیرانسانی حرکات پر آمادہ کردیتا ہے، اور وہ معاشرے کی ناانصافی کو دیکھ کر معاشرتی سکون کو غارت کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔
بعض اوقات وہ چوری، ڈکیتی، سٹہ اور جوأ جیسی قبیح حرکات شروع کردیتا ہے، کبھی غربت و افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھولینے کا فیصلہ کرلیتا ہے، کبھی وہ پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے اپنی عزّت و عصمت کو نیلام کرتا ہے، اور کبھی فقر و فاقہ کا مداوا ڈھونڈنے کے لئے اپنے دین و ایمان کا سودا کرتا ہے، اسی بنا پر ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے:
’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا۔‘‘ (رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ، مِشْکٰوۃ ص:۴۲۹، وَعَزَاہُ فِی الدُّرِّ الْمَنْثُوْرِ ج:۶ ص:۴۲۰، إِلٰی ابْنِ أَبِیْ شَیْبَۃَ وَالْبَیْہَقِیِّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ وَذَکَرَہُ الْجَامِعُ الصَّغِیْرُ، مُعَزَّیًا إِلٰی أَبِیْ نُعَیْمٍ فِی الْحِلْیَۃِ، وَقَالَ السَّخَاوِیُّ طَرَفُہٗ کُلُّہٗ ضَعِیْفٌ کَمَا فِی الْمَقَاصِدِ الْحَسَنَۃِ وَفَیْضِ الْقَدِیْرِ شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِیْرِ ج:۴ ص:۵۴۲، وَقَالَ الْعَزِیْزِیُّ (ج:۴ ص:۲) ہُوَ حَدِیْثٌ ضَعِیْفٌ، وَفِی تَذْکِرَۃِ الْمَوْضُوْعَاتِ لِلشَّیْخِ مُحَمَّدٍ طَاہِرٍ الْفَتْنِیِّ (۱۷۴) ضَعِیْفٌ وَلٰکِنْ صَحَّ مِنْ قَوْلِ أَبِیْ سَعِیْدٍ)
یعنی ’’فقر و فاقہ آدمی کو قریب قریب کفر تک پہنچادیتا ہے۔‘‘ اور فقر و فاقہ میں اپنے منعمِ حقیقی کی ناشکری کرنا تو ایک عام بات ہے۔
یہ تمام غیرانسانی حرکات، معاشرے میں فقر و فاقہ سے جنم لیتی ہیں، اور بعض اوقات گھرانوں کے گھرانوں کو برباد کرکے رکھ دیتی ہیں، ان کا مداوا ڈھونڈنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور صدقات و زکوٰۃ کے ذریعے خالقِ کائنات نے ان بُرائیوں کا سدِ باب بھی فرمایا ہے۔
۶:۔ اس کے برعکس بعض اخلاقی خرابیاں وہ ہیں جو مال و دولت کے افراط سے جنم لیتی ہیں، امیرزادوں کو جو جو چونچلے سوجھتے ہیں، اور جس قسم کی غیرانسانی حرکات ان سے سرزد ہوتی ہیں، انہیں بیان کرنے کی حاجت نہیں، صدقات و زکوٰۃ کے ذریعے حق تعالیٰ نے مال و دولت سے پیدا ہونے والی اخلاقی برائیوں کا بھی انسداد فرمایا ہے، تاکہ ان لوگوں کو غرباء کی ضروریات کا بھی احساس رہے اور غرباء کی حالت ان کے لئے تازیانۂ عبرت بھی ہے۔
۷:۔ زکوٰۃ و صدقات کے نظام میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے وہ مصائب و آفات ٹل جاتی ہیں جو انسان پر نازل ہوتی رہتی ہیں، اسی بنا پر بہت سی احادیثِ شریفہ میں بیان فرمایا گیا ہے کہ صدقہ سے رَدِّ بلا ہوتا ہے، اور انسان کی جان و مال آفات سے محفوظ رہتی ہے۔(۲)
عام لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شخص بیمار پڑجائے تو صدقے کا بکرا ذبح کردیتے ہیں، وہ مسکین یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بکرے کی جان کی قربانی دینے سے مریض کی جان بچ جائے گی، ان لوگوں نے صدقے کے مفہوم کو نہیں سمجھا، صدقہ صرف بکرا ذبح کردینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے پاک مال سے کچھ حصہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی ضرورت مند کے حوالے کردینے کا نام ہے، جس میں ریا و تکبر اور فخر و مباہات کی کوئی آلائش نہ ہو، اس لئے جب کوئی آفت پیش آئے، صدقے سے اس کا علاج کرنا چاہئے، آپ جتنی ہمت و استطاعت رکھتے ہیں تو بازار سے اس کی قیمت معلوم کرکے اتنی قیمت کسی محتاج کو دے دیجئے، یا بکرا ہی خرید کر کسی کو صدقہ کردیجئے، الغرض بکرے کو ذبح کرنے کو رَدِّ بلا میں کوئی دخل نہیں، بلکہ بلا تو صدقے سے ٹلتی ہے، اس لئے صرف شدید بیماری نہیں، بلکہ ہر آفت و مصیبت میں صدقہ کرنا چاہئے، بلکہ آفتوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے سے پہلے صدقے سے ان کا تدارک ہونا چاہئے، ہمارا متمول طبقہ جس قدر دولت میں کھیلتا ہے، بدقسمتی سے آفات و مصائب کا شکار بھی اسی قدر زیادہ ہوتا ہے۔
اس کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ٹھیک ٹھیک ادا نہیں کرتے، اور جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے، اتنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔
۸:۔ زکوٰۃ و صدقات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مال و دولت میں برکت ہوتی ہے، اور زکوٰۃ و صدقات میں بخل کرنا آسمانی برکتوں کے دروازے بند کردیتا ہے، حدیث میں ہے کہ: ’’جو قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر قحط اور خشک سالی مسلط کردیتا ہے، اور آسمان سے بارش بند ہوجاتی ہے‘‘ (طبرانی، حاکم)۔(۳)
ایک اور حدیث میں ہے کہ چار چیزوں کا نتیجہ چار چیزوں کی شکل میں ہوتا ہے:
۱:۔ جب کوئی قوم عہدشکنی کرتی ہے تو اس پر دُشمنوں کو مسلط کردیا جاتا ہے۔
۲:۔ جب وہ ما انزل اﷲ کے خلاف فیصلے کرتی ہے، تو قتل و خونریزی اور موت عام ہوجاتی ہے۔
۳:۔ جب کوئی قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے تو ان سے بارش روک لی جاتی ہے۔
۴:۔ جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو زمین کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اور قوم پر قحط مسلط ہوجاتا ہے (طبرانی)۔(۴)
خلاصہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا تجویز فرمودہ نظامِ زکوٰۃ و صدقات انقلابی نظام ہے، جس سے معاشرے کو راحت و سکون کی زندگی نصیب ہوسکتی ہے، اور اس سے انحراف کا نتیجہ معاشرے کے افراد کی بے چینی و بے اطمینانی کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔
۹:۔ یہ تمام اُمور تو وہ تھے جن کا تعلق دُنیا کی اسی زندگی سے ہے، لیکن ایک مؤمن جو سچے دِل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہو، یہ دُنیوی زندگی ہی اس کا منتہائے نظر نہیں، بلکہ اس کی زندگی کی ساری تگ و دو آخرت کی زندگی کے لئے ہے، وہ اس دارِ فانی کی محنت سے اپنا آخرت کا گھر سجانا چاہتا ہے، وہ اس تھوڑی سی چند روزہ زندگی سے آخرت کی دائمی زندگی کی راحت و سکون کا متلاشی ہے۔ عام انسانوں کی نظر صرف اس دُنیا تک محدود ہے، اور وہ جو کچھ کرتے ہیں صرف اسی دُنیا کی فلاح و بہبود کے لئے کرتے ہیں، جس منصوبے کی تشکیل کرتے ہیں، محض اس زندگی کے خاکوں اور نقشوں کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے صدقات و زکوٰۃ کے ذریعہ اہلِ ایمان کو آخرت کے بینک میں اپنی دولت منتقل کرنے کا گُر بتایا ہے، زکوٰۃ و صدقات کی شکل میں جو رقم دی جاتی ہے وہ براہِ راست آخرت کے بینک میں جمع ہوتی ہے، اور یہ آدمی کو اس دن کام آئے گی جب وہ خالی ہاتھ یہاں کی چیزیں یہیں چھوڑ کر رُخصت ہوگا:
’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا‘‘
اس لئے بہت ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی دولت یہاں سے وہاں منتقل کرنے میں پیش قدمی کرتے ہیں۔
۱۰:۔ انسان دُنیا میں آتا ہے تو بہت سے تعلقات اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، ماں باپ کا رشتہ، بہن بھائیوں کا رشتہ، عزیز و اقارب کا رشتہ، اہل و عیال کا رشتہ وغیرہ وغیرہ۔
لیکن مؤمن کا ایک رشتہ اپنے خالق و محسن اور محبوبِ حقیقی سے بھی ہے، اور یہ رشتہ تمام رشتوں سے مضبوط بھی ہے اور پائیدار بھی، دُوسرے سارے رشتے توڑے بھی جاسکتے ہیں اور جوڑے بھی جاسکتے ہیں، مگر یہ رشتہ کسی لمحے نہ توڑا جاسکتا ہے نہ اس کا چھوڑنا ممکن ہے، یہ دُنیا میں بھی قائم ہے، نزع کے وقت بھی رہے گا، قبر کی تاریک کوٹھری میں بھی رہے گا، میدانِ محشر میں بھی اور جنت میں بھی، جوں جوں زندگی کے دور گزرتے اور بدلتے رہیں گے، یہ رشتہ قوی سے قوی تر ہوتا جائے گا، اور اس کی ضرورت کا احساس بھی سب رشتوں پر غالب آتا جائے گا۔ اس رشتے کی راہ میں سب سے بڑھ کر انسان کی نفسانی خواہشات حائل ہوتی ہیں، اور ان خواہشات کی بجاآوری کا سب سے بڑا ذریعہ مال ہے، زکوٰۃ و صدقات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کی خواہشات کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں، اور بندے کا جو رشتہ اس کے ساتھ ہے اس کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانا چاہتے ہیں، اس لئے جو صدقہ کسی فقیر و مسکین کو دیا جاتا ہے، وہ دراصل اس کو نہیں دیا جاتا، بلکہ یہ اپنی مالی قربانی کا حقیر سا نذرانہ ہے، جو بندے کی طرف سے محبوبِ حقیقی کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دستِ رضا سے قبول فرماتے ہیں اور پھر اس کی پرورش فرماتے رہتے ہیں، قیامت کے دن وہ صدقہ رائی سے پہاڑ بناکر بندے کو واپس کردیا جائے گا۔(۵) پس حیف ہے! ہم بارگاہِ رَبّ العزّت میں اتنی معمولی سی قربانی پیش کرنے سے بھی ہچکچائیں اور حق تعالیٰ شانہ کی بے پایاں عنایتوں اور رحمتوں سے خود کو محروم رکھیں۔
زکوٰۃ ٹیکس نہیں:
اُوپر کی سطور سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی کہ زکوٰۃ ٹیکس نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے، بعض لوگوں کے ذہن میں زکوٰۃ کا ایک نہایت گھٹیا تصوّر ہے، وہ اس کو حکومت کا ٹیکس سمجھتے ہیں، جس طرح کہ تمام حکومتوں میں مختلف قسم کے ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں، حالانکہ زکوٰۃ کسی حکومت کا عائدہ ٹیکس نہیں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی حکومت کی ضروریات کے لئے اس کو عائد کیا ہے، بلکہ حدیث میں صاف طور پر ارشاد ہے کہ زکوٰۃ مسلمانوں کے متمول طبقے سے لے کر ان کے تنگ دستوں کو لوٹادی جائے گی۔(۶)
اسی طرح یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ زکوٰۃ دینے والے فقراء و مساکین پر کوئی احسان کرتے ہیں، ہرگز نہیں! بلکہ خود فقراء و مساکین کا مالداروں پر احسان ہے کہ ان کے ذریعے سے ان لوگوں کی رُقوم خدائی بینک میں جمع ہو رہی ہیں، اگر آپ کسی کو بینک میں جمع کرانے کے لئے کوئی رقم سپرد کرتے ہیں تو کیا آپ اس پر احسان کر رہے ہیں؟ اگر یہ احسان نہیں تو غرباء کو زکوٰۃ دینا بھی ان پر احسان نہیں!
پہلی اُمتوں میں جو مال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نذرانے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اس کا استعمال کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہیں تھا، بلکہ وہ سوختنی قربانی کہلاتی تھی، اسے قربان گاہ میں رکھ دیا جاتا تھا، اب اگر آسمان سے آگ آکر اسے راکھ کر جاتی تو یہ قربانی کے قبول ہونے کی علامت تھی، اور اگر وہ چیز اسی طرح پڑی رہتی تو اس کے مردُود ہونے کی نشانی تھی۔(۷) حق تعالیٰ نے اس اُمتِ مرحومہ پر یہ خاص عنایت فرمائی ہے کہ اُمراء کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ جو چیز حق تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنا چاہیں اسے ان کے فلاں فلاں بندوں (فقراء ومساکین) کے حوالے کردیں۔ اس عظیم الشان رحمت کے ذریعہ ایک طرف فقراء کی حاجات کا انتظام کردیا گیا اور دُوسری طرف اس اُمتِ مرحومہ کے لوگوں کو رُسوائی اور ذِلت سے بچالیا گیا، اب خدا ہی جانتا ہے کہ کون پاک مال سے صدقہ کرتا ہے؟ اور کون ناپاک مال سے؟ کون ایسا ہے جو محض رضائے الٰہی کے لئے دیتا ہے؟ اور کون ہے جو نام و نمود اور شہرت و ریا کے لئے؟ الغرض زکوٰۃ ٹیکس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نذرانہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسے قرضِ حسن فرمایا ہے: ’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے؟ پس وہ اس کے لئے اس کو کئی گنا بڑھادے‘‘ (البقرہ)۔(۸)
یہاں صدقات کو ’’قرضِ حسن‘‘ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح قرض واجب الادا ہے، اسی طرح صدقہ کرنے والوں کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ان کا یہ صدقہ بھی ہزاروں برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ انہیں واپس کردیا جائے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کو کسی کی احتیاج ہے، یہی وجہ ہے کہ صدقہ فقیر کے ہاتھوں میں جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے، اور فقیر گویا اس دینے والے سے وصول نہیں کر رہا، بلکہ یہ اس کی طرف سے دیا جارہا ہے جو سب کا داتا ہے۔
زکوٰۃ حکومت کیوں وصول کرے؟
رہا یہ سوال کہ جب زکوٰۃ ٹیکس نہیں، بلکہ خالص عبادت ہے، تو حکومت کو اس کا انتظام کیوں تفویض کیا جائے؟ اس سوال کا جواب ایک مستقل مقالے کا موضوع ہے، مگر یہاں مختصر طور پر اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام پورے معاشرے کو ایک اکائی قرار دے کر اس کا نظم و نسق اسلامی حکومت کے سپرد کرتا ہے۔ اس لئے وہ فقراء و مساکین جو اسلامی معاشرے کا جزو ہیں ان کی ضروریات کا تکفّل بھی اسلامی معاشرے کی قوّتِ مقتدرہ کے سپرد کرتا ہے، اور اس کفالت کے لئے اس نے صدقات و زکوٰۃ کا نظام رائج فرمایا ہے، فقراء ومساکین کی کفالت کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت پر عائد کی گئی ہے، اس لئے اس مد کے لئے مخصوص رقم کا بندوبست بھی حکومت کا فریضہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حکومت کی جانب سے صدقات کی وصولی و انتظام پر مقرّر ہوں، حدیثِ پاک میں ان کو ’’غازی فی سبیل اللہ‘‘ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔(۹) (ابوداؤد، ترمذی) جس میں ایک طرف ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے، اور دُوسری طرف ان کی نازک ذمہ داری کا بھی انہیں احساس دلایا گیا ہے۔ یعنی اگر وہ اس فریضے کو جہاد فی سبیل اللہ سمجھ کر ادا کریں گے تب اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گے، اور اگر انہوں نے اس مال میں ایک پیسے کی بھی خیانت روا رکھی تو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدائی مال میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں، جو ان کے لئے آتشِ دوزخ کا سامان ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’جس شخص کو ہم نے کسی کام پر مقرّر کیا، اور اس کے لئے ایک وظیفہ بھی مقرّر کردیا، اس کے بعد اگر وہ اس مال سے کچھ لے تو وہ غنیمت میں خیانت کرنے والا ہوگا‘‘ (ابوداؤد)۔
زکوٰۃ کے چند مسائل:
زکوٰۃ ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے، اس کے مسائل حضراتِ علمائے کرام سے اچھی طرح سمجھ لینے چاہئیں، میں یہاں چند مسائل درج کرتا ہوں، مگر عوام صرف اپنے فہم پر اعتماد نہ کریں، بلکہ اہلِ علم سے اچھی طرح تحقیق کرلیں۔
۱:۔ اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے (۳۵ء۶۱۲ گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولے (۵ء۸۷ گرام) سونا ہے، یا اتنی مالیت کا نقد روپیہ ہے یا پھر اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔(۱۰)
۲:۔ اگر کسی شخص کے پاس کچھ چاندی ہو، کچھ سونا ہو یا کچھ روپیہ یا کچھ مالِ تجارت ہو، اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولے (۳۵ء۶۱۲ گرام) چاندی کے برابر ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۱۱)
۳:۔ کارخانے اور فیکٹری وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰۃ نہیں، لیکن ان میں جو مال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ ہے، اسی طرح جو خام مال کارخانے میں موجود ہو، اس پر بھی زکوٰۃ ہے۔(۱۲)
۴:۔ سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰۃ ہے، چنانچہ سونے چاندی کے زیور، سونے چاندی کے برتن حتیٰ کہ سچا گوٹا، ٹھپّا، اصلی زری، سونے چاندی کے بٹن، خواہ کپڑوں میں لگے ہوئے ہوں، ان سب پر زکوٰۃ فرض ہے۔(۱۳)
۵:۔ کارخانوں اور ملوں کے حصص پر بھی زکوٰۃ واجب ہے، جبکہ ان حصص کی مقدار بقدرِ نصاب ہو یا دُوسری قابلِ زکوٰۃ چیزوں کو ملاکر نصاب بن جاتا ہو، البتہ مشینری اور فرنیچر وغیرہ استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، اس لئے ہر حصے دار کے حصے میں اس کی جتنی قیمت آتی ہے، اس کو مستثنیٰ کرکے باقی کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔(۱۴)
۶:۔ سونا چاندی، مالِ تجارت اور کمپنی کے حصص کی جو قیمت زکوٰۃ کا سال پورا ہونے کے دن ہوگی، اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔(۱۵)
۷:۔ سال کے اوّل و آخر میں نصاب کا پورا ہونا شرط ہے، اگر درمیان سال میں رقم کم ہوجائے تو اس کا اعتبار نہیں۔(۱۶)
مثلاً: ایک شخص سال شروع ہونے کے وقت تین ہزار روپے کا مالک تھا، تین مہینے کے بعد اس کے پاس پندرہ سو روپے رہ گئے، چھ مہینے بعد چار ہزار روپے ہوگئے، اور سال کے ختم پر ساڑھے چار ہزار روپے کا مالک تھا، تو سال پورا ہونے کے وقت اس پر ساڑھے چار ہزار روپے کی زکوٰۃ واجب ہوگی، درمیان سال میں اگر رقم گھٹتی بڑھتی رہی، اس کا اعتبار نہیں۔
(نوٹ: آج کل ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت پونے تین ہزار روپے ہے)
۸:۔ پراویڈنٹ فنڈ پر وصول یابی کے بعد زکوٰۃ فرض ہے، وصول یابی سے پہلے سالوں کی زکوٰۃ فرض نہیں۔(۱۷)
۹:۔ صاحبِ نصاب اگر پیشگی زکوٰۃ ادا کردے، تب بھی جائز ہے، لیکن سال کے دوران اگر مال بڑھ گیا تو سال ختم ہونے پر زائد رقم ادا کردے۔(۱۸)
زکوٰۃ کے مصارف:
۱:۔ زکوٰۃ صرف غرباء و مساکین کا حق ہے،(۱۹) حکومت اس کو عام رفاہی کاموں میں استعمال نہیں کرسکتی۔(۲۰)
۲:۔ کسی شخص کو اس کے کام یا خدمت کے معاوضے میں زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی،(۲۱) لیکن زکوٰۃ کی وصولی پر جو عملہ حکومت کی طرف سے مقرّر ہو، ان کا مشاہرہ اس فنڈ سے ادا کرنا صحیح ہے۔(۲۲)
۳:۔ حکومت صرف اموالِ ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرے گی، اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ ہر شخص اپنی صوابدید کے مطابق ادا کرسکتا ہے۔(۲۳) (کارخانوں اور ملوں میں تیار ہونے والا مال، تجارت کا مال اور بینک میں جمع شدہ سرمایہ ’’اموالِ ظاہرہ‘‘ ہیں، اور جو سونا، چاندی، نقدی گھروں میں رہتی ہے، ان کو ’’اموالِ باطنہ‘‘ کہا جاتا ہے)۔
۴:۔ کسی ضرورت مند کو اتنا روپیہ دے دینا جتنے پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، مکروہ ہے، لیکن زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲۴)
(۱) عن الحسن قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: حصنوا أموالکم بالزکٰوۃ وداووا مرضاکم بالصدقۃ واستقبلوا أمواج البلاء بالدعاء والتضرع۔ (مراسیل أبی داوٗد ص:۸، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۲) عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الصدقۃ لتطفیٔ غضب الرّبّ وتدفع میتۃ السوء۔ رواہ الترمذی۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۱۲، الترغیب فی الصدقۃ رقم الحدیث:۲۱)۔ وروی عن نافع بن خدیج رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم: الصدقۃ تسدّ سبعین بابًا من السوء۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر)۔ وعن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: باکروا بالصدقۃ، فإن البلاء لَا یتخطّی الصدقۃ۔ رواہ البیھقی۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۱۹، رقم الحدیث:۳۷، طبع دار إحیاء التراث العربی)۔
(۳) وعن بریدۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما منع قوم الزکاۃ إلّا ابتلاھم اللہ بالسنین۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط ورجالہ ثقات۔ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۵۳، کتاب الزکاۃ، باب فرض الزکاۃ، طبع بیروت)۔
(۴) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خمس بخمس! قیل: یا رسول اللہ ! وما خمس بخمس؟ قال: ما نقض قوم العھد إلّا سلط علیھم عدوھم، وما حکموا بغیر ما أنزل اللہ إلّا فشا فیھم (الفقر، ولأظھرت فیھم الفاحشۃ إلّا فشا فیھم) الموت، ولَا منعوا الزکاۃ إلّا حبس عنھم المطر، ولَا طففوا المکیال إلّا حبس عنھم النبات وأخذوا بالسنین۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر۔ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۵۳، کتاب الزکاۃ، باب فرض الزکاۃ، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔
(۵) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تصدّق بعدل تمرۃ من کسب طیّب ولَا یقبل اللہ إلّا الطّیّب فإن اللہ یتقبّلھا بیمینہ ثم یربّیھا لصاحبھا کما یربّی أحدکم فلوّہ حتّی تکون مثل الجبل۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۷، باب فضل الصدقۃ، کتاب الزکاۃ، طبع قدیمی)۔
(۶) عن ابن عباس رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعث معاذًا إلی الیمن فقال ۔۔۔ فاعلمھم ان اللہ قد فرض علیھم صدقۃً تؤخذ من أغنیائھم فتردّ إلٰی فقرائھم ۔۔۔إلخ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۵۵، کتاب الزکاۃ)۔
(۷) ﵟ وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱبۡنَيۡ ءَادَمَ بِٱلۡحَقِّ إِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانٗا فَتُقُبِّلَ مِنۡ أَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ ٱلۡأٓخَرِ ﵞ المائدة ٢٧۔ وفی التفسیر المظھری: والقربان اسم ما یتقرب بھا إلی اللہ تعالٰی من ذبیحۃ أو غیرھا ۔۔۔ وکانت القربان إذا قبلت نزلت نار من السماء بیضاء فأکلتہ وإذا لم تقبل لم تتنزل النار وأکلہ الطیر والسباع۔ (تفسیر مظھری ج:۳ ص:۷۹ طبع دھلی)۔
(۸) قَالَ تَعَالَى ﵟ مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضۡعَافٗا كَثِيرَةٗۚ ﵞ البقرة ٢٤٥
(۹) عن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العامل علی الصدقۃ بالحق کالغازی فی سبیل اللہ حتّی یرجع إلٰی بیتہ۔ رواہ أبوداوٗد والترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۱۵۷)۔ عن عبد اللہ بن بریدۃ عن أبیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من استعملنا علٰی عمل فرزقناہ رزقًا فما أخذ ذٰلک فھو غلول۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۵۲)۔
(۱۰) نصاب الذھب عشرون مثقالًا والفضۃ مئتا درھم ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۲۹۵)۔
(۱۱) وقیمۃ العروض للتجارۃ تضم إلی الثمنین لأن الکل للتجارۃ وضعا وجعلا ویضم الذھب إلی الفضۃ وعکسہ یجامع الثمنیۃ قیمۃ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۳۰۳، وأیضًا فی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ)۔
(۱۲) فلیس فی دور السکنی ۔۔۔ وکذا کتب العلم إن کان من أھلہ وآلَات المحترفین۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۲)۔
(۱۳) قال القدوری: وفی تبر الذھب والفضۃ وحلیھما وأوانیھما الزکٰوۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۷۵، کذا فی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ)۔
(۱۴) نصاب الذھب عشرون مثقالًا والفضۃ مئتا درھم ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی، باب زکٰوۃ المال ج:۲ ص:۲۹۵)۔
(۱۵) وتعتبر القیمۃ عند حولَان الحول ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الفصل الثانی فی العروض)۔
(۱۶) وإذا کان النصاب کاملًا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذٰلک لَا یسقط الزکٰوۃ کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۵، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)۔
(۱۷) ومنھا کون النصاب نامیا حقیقۃ ۔۔۔ أو تقدیرا بأن یتمکن من الْإستمناء کون المال فی یدہ أو فی ید نائبہ ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۴، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل)۔
(۱۸) ویجوز تعجیل الزکٰوۃ بعد ملک النصاب فلا یجوز قبلہ کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۶، کتاب الزکاۃ)۔
(۱۹) الباب السابع فی المصارف۔ منھا الفقیر ۔۔۔ ومنھا المسکین ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج۱ ص:۱۸۷)۔
(۲۰) ولَا یجوز أن ینبی بالزکٰوۃ ۔۔۔ القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۸۸، الباب السابع فی المصارف)۔
(۲۱) اما تفسیرھا (ای الزکٰوۃ) فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاۃ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ اللہ تعالٰی ھٰذا فی الشرع کذا فی التبیین۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۰) أیضًا: ولو نوی الزکٰوۃ بما یدفع المعلم إلی الخلیفۃ ولم یستأجرہ إن کان الخلیفۃ بحالہ لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضًا أجزأہ وإلّا فلا۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۹۰)۔
(۲۲) ومنھا العامل وھو من نصہ الْإمام لِاستیفاء الصدقات والعشور کذا فی الکافی۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۸۸)۔
(۲۳) قولہ الظاھرۃ والباطنۃ فإن مال الزکٰوۃ نوعان ظاھر، وھو المواشی وما یمر بہ التاجر علی العاشر وباطن: وھو الذھب والفضۃ، وأموال التجارۃ فی مواضعھا بحر۔ ۔۔۔ أما الباطنۃ التی فی بیتہ لو أخبر بھا العاشر فلا یأخذ منھا ۔۔۔إلخ۔ (شامی، قبیل مطلب ما ورد فی ذم العشار ج:۲ ص:۳۱۰)۔
(۲۴) ویکرہ أن یدفع إلٰی رجل مائتی درھم فصاعدا وإن دفعہ جاز کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔

