اورادووظائف
کاروبارکیبندشکےلئےوظیفہ
سوال:۔
بندہ ابھی تک مسائل کا شکار ہے، دِن بدن حالت گر رہی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ میرا گھرانہ دِین دار ہے، ہماری ایک دُکان ہے، ڈیڑھ سال پہلے ہمارا کاروبار بالکل ٹھیک تھا، اسی دوران والد صاحب حج پر گئے، ان کے آنے کے بعد ہمارا کام ٹھپ ہوگیا۔ دُکان میں آپس میں نااِتفاقی، کاریگروں سے لڑائی معمول بن گئی۔ عملیات کرنے والوں سے پتا چلا کہ دُکان کی بندش کالے علم سے کردی گئی ہے۔ اس کے توڑ کے لئے کئی جگہ گھوم چکا ہوں، مگر کسی کے پاس حل نہیں۔ خودکشی کو دِل چاہتا ہے۔ قرآنی عملیات والے اس کالے علم کا توڑ نہیں نکال سکے۔ کیا مجھے اب غیرمسلم کا سہارا لینا پڑے گا؟ شریعت میں چیز کہاں تک جائز ہے؟
جواب:۔
آپ نے اتنا لمبا خط لکھا ہے، میں اس کا کیا جواب دُوں؟ میں عامل نہیں کہ اس کا توڑ کروں۔ البتہ یہ کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی ذاتِ عالی سے اُمید رکھیں، وہی توڑ کرنے والا ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد گھر کے تمام افراد مل کر تین سو تیرہ مرتبہ قرآنِ کریم کی آخری دو سورتیں معوَّذتین پڑھا کریں، اور حق تعالیٰ شانہ‘ کی بارگاہ میں اس مصیبت کے کٹنے کی دُعا کیا کریں۔ اگر خودکشی کروگے تو جہنم میں جاؤگے، آدمی کو چاہئے کہ جو حالات بھی پیش آئیں، اللہ پر توکل رکھے اور اس کی بارگاہِ عالی میں دُعا کرتا رہے، والسلام۔

