بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کے‌متفرّق‌مسائل

آفس‌میں‌نماز‌کس‌طرح‌ادا‌کریں؟

سوال:۔

ہم پورٹ قاسم کے ایک ویران علاقے میں کے ای ایس سی کے آفس میں کام کرتے ہیں، ہماری ڈیوٹی ’’۲۴ گھنٹے‘‘ کی ہوتی ہے، وہاں قریب میں کوئی مسجد وغیرہ نہیں ہے، اور نہ ہی اَذان کی آواز آتی ہے، کچھ عرصہ پہلے آفس کے احاطے میں چند افراد نے مسجد کی طرح ایک جگہ بنادی تھی، جہاں نماز ادا کرتے ہیں، ہم سب ہی لوگ جن کی تعداد تقریبا آٹھ ہے، ماشاء اللہ نماز کے پابند ہیں، لیکن ہم لوگ الگ الگ نماز پڑھتے ہیں، اور بغیر اَذان دئیے ہوئے نماز پڑھتے ہیں، یعنی جب نماز کا وقت ہوا اس وقت سے نماز کا وقت ختم ہونے تک کبھی وقفے وقفے سے کبھی ایک ساتھ اپنی اپنی نماز ادا کرلیتے ہیں، جماعت سے اس لئے ادا نہیں کرتے کہ ہم لوگ علم میں بہت کم ہیں اور کسی کی شرعی داڑھی بھی نہیں ہے، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ نماز جماعت سے پڑھا سکتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا بغیر اَذان دئیے نماز پڑھنا جائز ہے، جبکہ اَذان کی آواز بھی نہ آئے؟ کیا ایسی صورت میں الگ الگ اپنی اپنی نماز ہوجائے گی، جبکہ پڑھنے کی جگہ بھی ایک ہو؟ یہ وضاحت بھی کردیں کہ اگر جماعت ضروری ہے تو کیا غیرشرعی داڑھی والے یا بغیر داڑھی والے حضرات نماز پڑھاسکتے ہیں؟

جواب:۔

اَذان و اِقامت نماز کی سنت ہے،(۱) داڑھی منڈے کی اِقتدا میں نماز مکروہ ہے،(۲) لیکن تنہا پڑھنے سے بہتر ہے، آپ حضرات اَذان و اِقامت اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھا کریں،(۳) کیا اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی باتوفیق داڑھی بھی رکھ لے، بلکہ سبھی کو رکھنی چاہئے تاکہ نماز مکروہ نہ ہو۔(۴)

  1. (۱) ثم ھما (الأذان والْإقامۃ) سنۃ للصلوات الخمس ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر، فصل فی السنن ص:۳۷۲)۔
  2. (۲) ویکرہ إمامۃ عبد وأعرابی وفاسق ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار، باب الْإمامۃ ج:۱ ص:۵۵۹، ۵۶۰)۔
  3. (۳) فإن أمکن الصلاۃ خلف غیرھم فھو أفضل وإلّا فالْإقتداء أولٰی من الْإنفراد۔ (شامی، باب الْإمامۃ ج:۱ ص:۵۵۹)۔
  4. (۴) دیکھیں حاشیہ گذشتہ: ویکرہ امامۃ۔۔۔الخ۔ وأیضًا: والسنۃ فیھا القبضۃ ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع ج:۶ ص:۴۰۷)۔