نمازکےمتفرّقمسائل
بجائےقرعہاندازیکےنمازِاِستخارہپڑھکرفیصلہکیجئے
سوال:۔
میری عادت ہے کہ جب کبھی کسی بات کا فیصلہ نہ کرسکوں اور بہت پریشان ہوجاؤں اور سمجھ میں کچھ نہ آئے کہ کیا فیصلہ کیا جائے؟ تو میں دو رکعت نفل پڑھ کر قرعہ پر دونوں چیزیں لکھ دیتی ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دُعا کرکے اُٹھالیتی ہوں، اور نیت کرلیتی ہوں کہ چونکہ خدا کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا، جو قرعہ میرے ہاتھ آئے گا اس فیصلے پر وہ کام کروں گی۔ یا پھر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاکر دُعا مانگتی ہوں کہ خدایا قرآن مجید تیرا کلام ہے، اور اس میں ہر قسم کی مثالیں اور احوال موجود ہیں، تیرا مبارک نام لے کر اس کو کھولوں گی، اس صفحے پر جو فیصلہ میری پریشانی کے مطابق ہو مجھ کو بتادے، تاکہ میں ویسا کرلوں اور تیری مرضی اور خوشی کے مطابق ہو، اور پھر خدا کا نام لے کر قرآن پاک کو کھول کر اس صفحے پر اپنے مسئلے کے مطابق جو حال ملتا ہے اس کو خدا کی رائے سمجھ کر عمل کرتی ہوں۔ کیا مندرجہ بالا دونوں صورتوں میں کفر یا شرک کا خطرہ تو نہیں ہوتا؟ ضرور جواب تحریر فرمائیں تاکہ آئندہ ایسا کروں، اکثر جب بہت پریشان کن مسئلہ ہو اور میری سمجھ میں کوئی فیصلہ نہ آرہا ہو تو میں ایسا کرکے فیصلہ کرلیتی ہوں۔
جواب:۔
کفر و شرک تو نہیں، لیکن ایک فضول حرکت ہے، یہ ایک طرح کا فال نکالنا ہے، جس کی ممانعت ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا، یہ عقیدہ کا فساد ہے۔(۱) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو تعلیم دی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوئی اہم کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز پڑھ کر اِستخارے کی دُعا کی جائے، اور پھر جس طرف دِل مائل ہو، اس صورت کو اِختیار کرلیا جائے، اِن شاء اللہ اسی میں خیر ہوگی۔(۲)
- (۱) (قولہ والکھانۃ) ۔۔۔ ومنھم انہ یعرف الأمور بمقدمات یستدل بھا علٰی مرافقھا من کلام من یسألہ أو حالہ أو فعلہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامیۃ ج:۱ ص:۴۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) (قولہ ومنھا رکعتا الْإستخارۃ) عن جابر بن عبداللہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الْإستخارۃ فی الأمور کلھا کما یعلمنا السورۃ من القرآن یقول إذا ھم أحدکم بالأمر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم لیقل اللّٰھم إنّی أستخیرک بعلمک ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامیۃ ج:۲ ص:۲۶، مطلب فی رکعتی الْإستخارۃ)۔

