بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کے‌متفرّق‌مسائل

ٹی‌وی‌پر‌نمازِ‌جمعہ‌کے‌وقت‌پروگرام‌پیش‌کرنا

سوال:۔

آج کل ٹی وی پر جمعہ کی نشریات جو صبح کی ہوتی ہیں، ان میں عین اس وقت ڈرامہ شروع ہوتا ہے جب نمازِ جمعہ شروع ہوتی ہے، جس سے کئی ٹی وی دیکھنے کے شوقین اور نمازِ جمعہ پڑھنے والوں کی نماز قضا ہوجاتی ہے، بتائیے یہ گناہ کس کے سر ہوگا؟

جواب:۔

جمعہ قضا کرنے والوں پر بھی اس کا وبال پڑے گا،(۱) اور ٹی وی والوں پر بھی، معلوم نہیں کہ کیا یہ لوگ مسلمان نہیں کہ لوگوں کو نمازِ جمعہ سے روکنے کا سبب بنتے ہیں۔۔۔؟(۲)

  1. (۱) عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لقوم یتخلفون عن الجمعۃ: لقد ہممت أن آمر رجلًا یصلی بالناس ثم أحرق علٰی رجال یتخلفون عن الجمعۃ بیوتھم۔ رواہ مسلم۔ وعن ابن عباس رضی اللہ عنھما أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ترک الجمعۃ من غیر ضرورۃ، کتب منافقًا فی کتاب لَا یمحٰی ولَا یبدل۔ وفی بعض الروایات: ثلاثًا۔ رواہ الشافعی۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۱۲۱، کتاب الصلاۃ، باب وجوبھا)۔
  2. (۲) إن الْإعانۃ علی المعصیۃ حرام مطلقًا بنص القرآن أعنی قولہ تعالٰی: ولَا تعاونوا علی الْإثم والعدوان، وقولہ تعالٰی: فلن أکون ظھیرًا للمجرمین۔ ولٰـکن الْإعانۃ حقیقۃً ھی ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، ولَا یتحقق إلّا بنیۃ الْإعانۃ أو التصریح بھا أو تعینھا فی إستعمال ھٰذا الشیء بحیث لَا یحتمل غیر المعصیۃ، وما لم تقم المعصیۃ بعینہ لم یکن من الْإعانۃ حقیقۃً بل من التسبب ۔۔۔ ثم السبب إن کان سببًا محرکًا وداعیًا إلی المعصیۃ فالتسبب فیہ حرام کالْإعانۃ علی المعصیۃ بنص القرآن کقولہ تعالٰی: ولَا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ۔ (تفصیل الکلام فی مسئلۃ الْإعانۃ علی الحرام ص:۱۵، جواھر الفقہ ج:۲ ص:۴۵۳)۔