بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کے‌متفرّق‌مسائل

ٹی‌وی‌کم‌از‌کم‌نماز‌کے‌اوقات‌کا‌احترام‌تو‌کرے

سوال:۔

مولانا صاحب! ٹی وی کی فضول نشریات نے مسلمانوں بالخصوص ہماری نئی نسل کو تباہی کے اس موڑ پر لاکر رکھ دیا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرور ہے، اور اس پر بس نہیں، بلکہ وہ پروگرام کو بھی ایسے موقع پر نشر کرتے ہیں جس وقت عین نماز کا وقت ہوتا ہے، ایمان کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نماز جیسی اہم عبادت کو ترک کردیتے ہیں، مسلمان کا کام تو یہ ہے کہ خود بُرائی سے بچتے ہوئے دُوسروں کو بُرائی سے بچانے کی محنت اور کوشش کرے، کیا یہ لوگ نماز کے اوقات میں پروگرام کے وقت کو کم و بیش نہیں کرسکتے؟

جواب:۔

اوّل تو ٹی وی ہی قوم کی صحت کے لئے ’’ٹی بی‘‘ ہے، اور یہ اُمّ الخبائث ہے جو شیطان نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرنے کے لئے ایجاد کی ہے، پھر اس کی نشریات لغو اور فضول ہیں، جو سراپا گناہ اور وبال ہیں، پھر نماز کے اوقات میں اس گندگی کو پھیلانا بہت ہی سنگین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قہر و غضب سے بچائے! ٹی وی کے کارپردازوں کو چاہئے کہ اگر وہ اس گندگی سے مسلمان معاشرہ کو نہیں بچاسکتے تو کم از کم نماز کے اوقات کا تو احترام کریں۔(۱)

  1. (۱) ﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ١٩ ﵞ النور ١٩۔