بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز‌کے‌متفرّق‌مسائل

قنوتِ‌نازلہ‌کب‌پڑھی‌جاتی‌ہے؟

سوال:۔

اخبارات میں پڑھا کہ ممتاز علمائے کرام نے اپیل کی ہے کہ فجر کی نماز میں دُعائے قنوت کا اہتمام کریں، براہِ کرم یہ بتلائیں کہ دُعائے قنوت کو نماز سنت یا نماز فرض میں پڑھا جائے؟ کیا یہ دُعائے قنوت عشاء کے وتروں والی ہے؟

جواب:۔

جب مسلمانوں پر کوئی بڑی آفت نازل ہو، مثلاً: مسلمان، کافروں کے پنجے میں گرفتار ہوجائیں یا اسلامی ملک پر کافر حملہ آور ہوں تو نمازِ فجر کی جماعت میں دُوسری رکعت کے رُکوع کے بعد اِمام ’’قنوتِ نازلہ‘‘ پڑھے اور مقتدی آمین کہتے جائیں، سنتوں میں یا تنہا ادا کئے جانے والے فرضوں میں قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی جاتی، اور وتر کی تیسری رکعت میں جو دُعائے قنوت ہمیشہ پڑھی جاتی ہے، وہ الگ ہے۔(۱)

  1. (۱) وقال الحافظ أبو جعفر الطحاوی: إنما لَا یقنت عندنا فی صلٰوۃ الفجر من غیر بلیۃ، فإن وقعت فتنۃ أو بلیۃ فلا بأس بہٖ، فعلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وظاھر تقییدھم بالْإمام أنہ لَا یقنت المنفرد ۔۔۔ والذی یظھر لی أن المقتدی یتابع إمامہ إلّا إذا جھر فیؤمن وأنہ یقنت بعد الرکوع لَا قبلہ ۔۔۔إلخ۔ (حاشیۃ رد المحتار ج:۲ ص:۱۱، باب الوتر والنوافل، وأیضًا فی البحر الرائق ج:۳ ص:۴۷، باب الوتر)۔