بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

نماز‌سے‌باہر‌لوگوں‌کے‌لئے‌سجدۂ‌تلاوت‌کا‌حکم

سوال:۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں نماز جیسے فجر، مغرب، عشاء چونکہ جلد پڑھی جاتی ہیں اور اسپیکر کا بندوبست بھی ماشاء اللہ بہت ہی وسیع ہے، اکثر اِمام صاحب سورۃ جس میں سجدہ آتا ہے، قراء ت فرماتے ہیں، جتنے آدمی نماز پڑھ رہے ہیں، اس سے ڈیڑھ گنا وضو کا اِنتظار اور بازاروں میں موجود ہوتے ہیں، وہ سجدے کی آیات سنتے ہیں، کسی کو پتا ہوتا ہے اور کچھ کو پتا بھی نہیں ہوتا، کیا احمد بن حنبلؒ کے نزدیک سجدہ لازم نہیں؟ اگر ہے تو اس آواز کو وہاں تک پہنچائیں، تاکہ لوگ اس گناہ سے بچ سکیں۔

جواب:۔

حنبلی مذہب میں سجدۂ تلاوت سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔ اور ہمارے نزدیک واجب ہے، مگر ایک شخص پر جو یہ جانتا ہو کہ سجدے کی آیت پڑھی گئی ہے، ایسے لوگ اگر اس رکعت میں اِمام کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں جس میں آیتِ سجدہ پڑھی گئی تو ان کا سجدہ ادا ہوجائے گا، خواہ اِمام کے سجدہ ادا کرنے سے پہلے شریک ہوں یا بعد میں، اور اگر اس رکعت میں شریک نہیں ہوسکے تو یہ اپنا سجدہ الگ کرلیں۔(۱)

  1. (۱) ومن سمعھا من مصل واقتدی بہ قبل أن یسجد المصلی لھا سجد المصلی معہ وإن اقتدی بعد ما سجد لھا فإن کان إقتدائہ فی الرکعۃ التی تلاھا فیھا سقطت عنہ ۔۔۔ ولو لم یدرک معہ تلک الرکعۃ أو لم یقتد لَا تسقط فلا بد من سجودہ لھا۔ (حلبی کبیر ص:۵۰۱، القرائۃ خارج الصلاۃ)۔