بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

سجدۂ‌تلاوت‌صاحبِ‌تلاوت‌خود‌کرے،‌نہ‌کہ‌کوئی‌دُوسرا

سوال:۔

قرآن خوانی کرواؤں اور پھر جب تمام قرآن ختم کرلیا جائے تو ایک عورت ان سب کے سجدے (جو ۱۴ ہیں) ادا کردیتی ہے، آپ وضاحت فرمائیں کہ جہاں سجدہ آئے، وہیں کیا جائے؟ یا علیحدہ ایک ساتھ سب سجدے ادا کرلئے جائیں؟ کیا کوئی قید یا پابندی تو نہیں ہے؟

جواب:۔

قرآنِ کریم کے کئی سجدے اکٹھے کرنا بھی جائز ہے،(۱) مگر جس نے سجدہ کی آیت تلاوت کی ہو، اسی کے ادا کرنے سے سجدہ ادا ہوگا، کوئی دُوسرا شخص اس کی جگہ سجدہ ادا نہیں کرسکتا۔ آپ نے جو لکھا ہے کہ ایک عورت ان سب کے سجدے ادا کردیتی ہے، یہ غلط ہے، تلاوت کرنے والوں کے ذمہ سجدۂ تلاوت بدستور واجب ہے۔(۲)

  1. (۱) فأما خارج الصلاۃ فإنھا تجب علٰی سبیل التراخی دون الفور عند عامۃ أھل الأصول لأن دلَائل الوجوب مطلقۃ عن تعیین الوقت۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الصلاۃ، وأما بیان کیفیۃ وجوبھا)۔
  2. (۲) والحاصل ان الوجوب إنما یکون بأحد الأمرین إما بالتلاوۃ أو بالسماع ۔۔۔إلخ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۱ ص:۱۸۴)۔