بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

آیتِ‌سجدہ‌سن‌کر‌سجدہ‌نہ‌کرنے‌والا‌گناہگار‌ہوگا‌یا‌پڑھنے‌والا؟

سوال:۔

آیتِ سجدہ تلاوت کرنے والے اور تمام سامعین پر سجدہ واجب ہے، لیکن جس کو سجدے کے متعلق معلوم نہیں اور نہ ہی صاحبِ تلاوت نے بتایا تو کیا وہ سامع گناہگار ہوگا؟

سوال:۔

نیز اگر آیتِ سجدہ خاموشی سے پڑھ لی جائے تو جائز ہے؟

جواب:۔

جن لوگوں کو معلوم نہیں کہ آیتِ سجدہ تلاوت کی گئی ہے اور تلاوت کرنے والے نے یا کسی اور نے ان کو بتایا بھی نہیں، وہ گناہگار نہیں، اور جن لوگوں کو علم ہوگیا کہ آیتِ سجدہ کی تلاوت کی گئی ہے، اس کے باوجود انہوں نے سجدہ نہیں کیا، وہ گناہگار ہوں گے، اور اس صورت میں تلاوت کرنے والا بھی گناہگار ہوگا، اس کو چاہئے تھا کہ آیتِ سجدہ کی تلاوت آہستہ کرتا۔(۱)

جواب:۔

اگر آدمی تنہا تلاوت کر رہا ہو، اس کو آیتِ سجدہ آہستہ ہی پڑھنی چاہئے،(۲) لیکن اگر نماز میں (مثلاً: تروایح میں) پڑھ رہا ہو تو آہستہ پڑھنے کی صورت میں مقتدیوں کے سماع سے یہ آیت رہ جائے گی، اس لئے بلند آواز سے پڑھنی چاہئے۔

  1. (۱) ویستحب للتالی إخفائھا إذا لم یکن السامع متھیئا للسجود وإن کان متھیئا یستحب جھرھا ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ص:۵۰۱، القرائۃ خارج الصلاۃ، طبع سھیل اکیڈمی)۔
  2. (۲) ایضاً۔