بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

لاؤڈ‌اسپیکر،‌ریڈیو‌اور‌ٹیلی‌ویژن‌سے‌آیتِ‌سجدہ‌پر‌سجدۂ‌تلاوت

سوال:۔

عام طور پر تراویح لاؤڈ اسپیکر پر پڑھائی جاتی ہے، سجدہ کی جو آیات تلاوت کی جاتی ہیں، اس کی آواز باہر بھی جاتی ہے، اگر کوئی شخص باہر یا گھر میں سجدہ کی آیات سنے تو اس پر سجدہ واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح ختم والے دن ریڈیو اور ٹی وی پر سعودی عرب سے براہِ راست تراویح سنائی اور دِکھائی جاتی ہیں، اور لوگ کافی شوق سے (خاص طور پر خواتین) انہیں سنتے ہیں، جبکہ آخری پارے میں دو سجدے ہیں، کیا عوام جب وہ آیاتِ سجدہ سنیں تو ان پر سجدہ واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ حالانکہ اکثریت صرف ذوق و شوق سے ہی دیکھتی ہے، عملی طور پر کچھ نہیں، یعنی اکثر لوگ صرف سن اور دیکھ لیتے ہیں، سجدہ وغیرہ ادا نہیں کرتے۔

جواب:۔

جن لوگوں کے کان میں سجدے کی آیت پڑے، خواہ انہوں نے سننے کا قصد کیا ہو یا نہ کیا ہو، ان پر سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے،(۱) بشرطیکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ آیتِ سجدہ تلاوت کی گئی،(۲) (اگر اسی تراویح کی ریکارڈنگ دوبارہ ریڈیو اور ٹی وی سے براڈکاسٹ یا ٹیلی کاسٹ کی جائے تو سجدۂ تلاوت نہیں واجب ہوگا)(۳)، البتہ عورتیں اپنے خاص ایام میں سنیں تو ان پر واجب نہیں۔(۴)

  1. (۱) والسجدۃ واجبۃ فی ھٰذہ المواضع علی التالی والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم یقصد کذا فی الھدایۃ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۳۲، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ)۔
  2. (۲) ولو قرأ بالعربیۃ یلزمہ مطلقًا لٰـکن یعذر بالتأخیر ما لم یعلم۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۳۳، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ)۔
  3. (۳) ولَا تجب إذا سمعھا من الطائر أو الصدی لَا تجب لأنہ محاکاۃ ولیس بقرائۃ۔ (حلبی کبیر ص:۵۰۰)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: آلاتِ جدیدہ، تالیف: مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ، ص:۱۶۵، طبع ادارۃ المعارف کراچی۔
  4. (۴) حتّی لَا تجب علی الکافر ۔۔۔ والحائض والنفساء قرأوا أو سمعوا لأن ھٰؤلآء لیسوا من أھل وجوب الصلاۃ علیھم۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۸۶، فصل فی بیان من تجب علیہ السجدۃ)۔