سجدۂتلاوت
تلاوتکےدورانآیتِسجدہکوآہستہپڑھنابہترہے
سوال:۔
قرآن کی تلاوت کرتے وقت جس رُکوع میں سجدہ آجائے تو اس کو دِل میں پڑھنا چاہئے یا کہ بلند آواز سے پڑھے؟ کہتے ہیں کہ اگر سجدہ کی آیت کوئی سن لے تو اس پر سجدہ واجب ہے، اگر سجدہ نہ کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ اور سجدہ کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ مفصل بتائیں۔
جواب:۔
سجدہ کی آیت پڑھنے سے، پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے،(۱) اس لئے کسی دُوسرے شخص کے سامنے سجدے کی آیت آہستہ پڑھے، تاکہ اس کے ذمہ سجدہ واجب نہ ہو۔(۲) جس شخص کے ذمہ سجدۂ تلاوت واجب تھا اور اس نے نہیں کیا تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ سجدہ کرلے۔ سجدۂ تلاوت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہتا ہوا سجدے میں چلا جائے، سجدے میں تین بار ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ‘‘ پڑھے اور تکبیر کہتا ہوا اُٹھ جائے، بس سجدۂ تلاوت ہوگیا۔(۳)
- (۱) فسبب وجوبھا أحد شیئین التلاوۃ أو السماع ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۸۰، وأیضًا ھندیۃ ج:۱ ص:۱۳۲)۔
- (۲) ولو قرأ آیۃ السجدۃ وعندہ ناس ۔۔۔ ینبغی أن یخفض قرائتھا، لأنہ لو جھر بھا لصار موجبًا علیھم شیئا ربما یتکاسلون عن أدائہ فیقعرن فی المعصیۃ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۳۸، باب سجود التلاوۃ)۔
- (۳) فإذا أراد السجود کبّر ولَا یرفع یدیہ وسجد ثم کبّر ورفع رأسہ ولَا تشھد علیہ ولَا سلام کذا فی الھدایۃ ویقول فی سجودہ ثلاثًا سبحان ربی الأعلٰی ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۳۵، وأیضًا فی البحر ج:۲ ص:۱۳۷)۔

