سجدۂتلاوت
چارپائیپربیٹھکرتلاوتکرنےوالاکبسجدۂتلاوتکرے؟
سوال:۔
اگر چارپائی پر بیٹھ کر قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہے ہیں اور آیتِ سجدہ بھی دورانِ تلاوت آتی ہے، لہٰذا اس کے لئے سجدہ ادا کرنا فوراً ضروری ہے یا بعد تلاوت (جتنا قرآن پڑھے) سجدہ کرلیا جائے؟ صحیح طریقہ تحریر فرمائیں۔
جواب:۔
فوراً کرلینا افضل ہے، تلاوت ختم کرکے کرنا بھی جائز ہے۔(۱) اگر چارپائی سخت ہو کہ اس پر پیشانی دھنسے نہیں اور اس پر پاک کپڑا بھی بچھا ہوا ہو تو چارپائی پر بھی سجدہ ادا ہوسکتا ہے، ورنہ نہیں۔(۲)
- (۱) وفی المراقی: وغیرھا تجب موسعًا ولٰـکن کرہ تأخیرہ السجود عن وقت التلاوۃ فی الأصح إذا لم یکن مکروھًا ۔۔۔إلخ۔ وفی حاشیۃ الطحطاوی: أی إذا لم یکن وقت التلاوۃ وقتًا مکروھًا ۔۔۔إلخ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۲۶۱، باب سجود التلاوۃ، وأیضًا فی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۳۵، وأیضًا فی البدائع ج:۱ ص:۱۸۰)۔
- (۲) ولو سجد ۔۔۔ إن استقرت جبھتہ وأنفہ ویجد حجمہ یجوز وإن لم تستقر لَا ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۷۰)۔

