سجدۂتلاوت
سجدۂتلاوتوسجدۂشکرکسوقتکرنےچاہئیں؟
سوال:۔
سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر وغیرہ کی وضاحت کردیجئے گا کہ یہ کس وقت کرنے چاہئیں؟ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد ظہر تک کوئی سجدہ نہیں کرسکتے، اسی طرح عصر کی نماز کے بعد کوئی سجدہ نہیں کرسکتے جب تک کہ مغرب کی نماز نہ پڑھ لی جائے، برائے مہربانی جواب وضاحت سے دیجئے گا۔
جواب:۔
تین اوقات مکروہ ہیں: طلوع کا وقت سورج کے بلند ہونے تک، غروب کا وقت اور اس سے پہلے تقریباً پندرہ بیس منٹ، دوپہر کا وقت۔ ان تین اوقات میں سجدۂ تلاوت ممنوع ہے، باقی تمام اوقات میں جائز ہے۔ سجدۂ شکر بھی ان تین اوقات کے علاوہ جائز ہے، مگر لوگوں کے سامنے نہ کیا جائے۔(۱)
- (۱) ثلاث ساعات لَا تجوز فیھا المکتوبۃ ولَا صلٰوۃ الجنازۃ ولَا سجدۃ التلاوۃ: إذا طلعت الشمس حتّٰی ترتفع، وعند الْإنتصاف إلٰی أن تزول، وعند إحمرارھا إلٰی أن تغیب ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۵۲، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا، طبع رشیدیہ)۔ ویکرہ أن یسجد شکرًا بعد الصلاۃ فی الوقت الذی یکرہ فیہ النفل ولَا یکرہ فی غیرہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۶، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ)۔ أیضًا: وسجدۃ الشکر مستحبۃ بہ یفتی لٰـکنھا تکرہ بعد الصلاۃ لأن الجھلۃ یعتقدونھا سُنَّۃ أو واجبۃ وکل مباح یؤدی إلیہ فمکروہ۔ (در مختار ج:۲ ص:۱۱۹، ۱۲۰، کتاب الصلاۃ، مطلب فی سجدۃ الشکر، طبع ایچ ایم سعید)۔

