بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

فجر‌اور‌عصر‌کے‌بعد‌مکروہ‌وقت‌کے‌علاوہ‌سجدۂ‌تلاوت‌جائز‌ہے

سوال:۔

تلاوت کا سجدہ عصر کی نماز کے بعد مغرب تک یا فجر کی نماز کے بعد جائز ہے یا نہیں؟ یعنی ان دونوں اوقات میں سجدہ ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ہمیں اہلِ سنت علماء نے منع کیا ہے، ہم خود بھی اہلِ سنت سے وابستہ ہیں، ہم دو آپس میں دوست ہیں، میں نے اس کو سجدہ کرنے سے منع کیا لیکن اس نے آپ کا حوالہ دیا۔

جواب:۔

فقہِ حنفی کے مطابق نمازِ فجر اور عصر کے بعد سجدۂ تلاوت جائز ہے،(۱) البتہ طلوعِ آفتاب سے لے کر دُھوپ کے سفید ہونے تک، اور غروب سے پہلے دُھوپ کے زرد ہونے کی حالت میں سجدۂ تلاوت بھی منع ہے۔(۱)

  1. (۱) تسعۃ أوقات یکرہ فیھا النوافل وما فی معناھما لَا الفرائض ۔۔۔ فیجوز فیھا قضاء الفائتۃ وصلاۃ الجنازۃ وسجدۃ التلاوۃ ۔۔۔ منھا ما بعد صلٰوۃ الفجر قبل طلوع الشمس ۔۔۔ ومنھا ما بعد صلٰوۃ العصر قبل مغیب الشمس ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۵۲، ۵۳، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا)۔
  2. (۲) ثلاث ساعات لَا تجوز فیھا المکتوبۃ ولَا صلٰوۃ الجنازۃ ولَا سجدۃ التلاوۃ: إذا طلعت الشمس حتّٰی ترتفع، وعند الْإنتصاف إلٰی أن تزول، وعند إحمرارھا إلٰی أن تغیب ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۵۲، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا، طبع رشیدیہ)۔ ویکرہ أن یسجد شکرًا بعد الصلاۃ فی الوقت الذی یکرہ فیہ النفل ولَا یکرہ فی غیرہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۶، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ)۔ أیضًا: وسجدۃ الشکر مستحبۃ بہ یفتی لٰـکنھا تکرہ بعد الصلاۃ لأن الجھلۃ یعتقدونھا سُنَّۃ أو واجبۃ وکل مباح یؤدی إلیہ فمکروہ۔ (در مختار ج:۲ ص:۱۱۹، ۱۲۰، کتاب الصلاۃ، مطلب فی سجدۃ الشکر، طبع ایچ ایم سعید)۔