سجدۂتلاوت
سجدۂتلاوتکاطریقہ
سوال:۔
میں نے منّت مانی تھی کہ ایک قرآن شریف ختم کروں گی، پوچھنا یہ ہے کہ قرآن شریف میں جہاں آیتِ سجدہ ہوتے ہیں اس وقت سجدہ کرنا لازم ہوتا ہے یا بعد میں پورا قرآن ختم کرکے سجدہ کیا جائے تو گناہ تو نہیں ہے؟ میں قرآن ختم کرنے والی ہوں، اگر اس کے بعد میں نے سجدۂ تلاوت کیا تو مجھے گناہ ملے گا یا نہیں؟ یہ بھی بتادیں کہ سجدہ کس طرح کرنا ہے؟ بالکل اس طرح جس طرح نماز میں کرتے ہیں؟ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰکہنا لازمی ہے؟
جواب:۔
تلاوت کا سجدہ اگر تلاوت کے ساتھ ہی ادا کرلیا جائے تو بہتر ہے۔ ایک مجلس پر جب تلاوت ختم کریں اسی وقت سجدہ کرلیا کریں، اِکٹھے چودہ سجدے کرلینا جائز ہے، مگر بہتر نہیں۔ سجدۂ تلاوت کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے جائیں اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ پڑھیں، کم سے کم تین بار، پھر تکبیر کہہ کر اُٹھ جائیں، بس سجدہ ادا ہوگیا۔(۱)
- (۱) وفی الغیاثیۃ وأدائھا لیس علی الفور حتّی لو أدّاھا فی أیّ وقت کان یکون مؤدّیًا لَا قاضیًا کذا فی التتارخانیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۵)، فإذا أراد السجود کبّر ولَا یرفع یدیہ وسجد ثم کبّر ورفع رأسہ ولَا تشھد علیہ ولَا سلام ویقول فی سجودہ سبحان ربی الأعلٰی ثلاثًا ولَا ینقص عن الثلاث کما فی المکتوبۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۵)۔ أیضًا: وفی المراقی: وغیرھا تجب موسعًا ولٰـکن کرہ تأخیر السجود عن وقت التلاوۃ فی الأصح إذا لم یکن مکروھًا: أی إذا لم یکن وقت التلاوۃ مکروھًا بأن کان أحد أوقات الثلاثۃ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۲۶۱، باب سجود التلاوۃ، وأیضًا فی البدائع ج:۱ ص:۱۸۰، فصل وأما سبب وجوب السجدۃ، طبع سعید)۔

