بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

سجدۂ‌تلاوت‌فرداً‌فرداً‌کریں‌یا‌ختمِ‌قرآن‌پر‌تمام‌سجدے‌ایک‌ساتھ؟

سوال:۔

ہر سجدۂ تلاوت کو اسی وقت ہی کرنا مسنون ہے یا ختمِ قرآن الحکیم پر تمام سجدے تلاوت ادا کرلئے جائیں؟ کون سا طریقہ افضل ہے؟

جواب:۔

قرآنِ کریم کے تمام سجدوں کو جمع کرنا خلافِ سنت ہے، تلاوت میں جو سجدہ آئے حتی الوسع اس کو جلد سے جلد ادا کرنے کی کوشش کی جائے، تاہم اگر اکٹھے سجدے کئے جائیں تو ادا ہوجائیں گے۔(۱)

  1. (۱) وفی التجنیس وھل یکرہ تأخیرھا عن وقت القرائۃ؟ ذکر فی بعض المواضع أنہ إذا قرأھا فی الصلاۃ فتأخیرھا مکروہ وإن قرأھا خارج الصلاۃ لَا یکرہ تأخیرھا وذکر الطحاوی ان تأخیرھا مکروہ مطلقًا وھو الأصح وھی کراھۃ تنزیھیۃ فی غیر الصلاتیۃ، لأنھا لو کانت تحریمیۃً لکان وجوبھا علی الفور ولیس کذالک۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۲۹)۔