سجدۂتلاوت
کیاسجدۂتلاوتسپارےپربغیرقبلہرُخکرسکتےہیں؟
سوال:۔
سجدۂ تلاوتِ قرآن پاک، کیا اسی وقت کرنا چاہئے جس وقت ہی اس کو پڑھیں یا پھر دیر سے بھی کرسکتے ہیں؟ اور کیا سپارے پر سجدہ کرسکتے ہیں جبکہ سامنے قبلہ نہ ہو؟ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ قرآنِ پاک پڑھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ایک انسان چودہ سجدے کرے، آیا یہ دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔
سجدۂ تلاوت فوراً کرنا افضل ہے، لیکن ضروری نہیں، بعد میں بھی کیا جاسکتا ہے، اور قرآنِ کریم ختم کرکے سارے سجدے کرلے تو بھی صحیح ہے، لیکن اتنی تأخیر اچھی نہیں،(۱) کیا خبر کہ قرآن کے ختم کرنے سے پہلے انتقال ہوجائے اور سجدے، جو کہ واجب ہیں اس کے ذمہ رہ جائیں؟ سپارے پر سجدہ نہیں ہوتا، قبلہ رُخ ہوکر زمین پر سجدہ کرنا چاہئے، سپارے کے اُوپر سجدہ کرنا قرآنِ کریم کی بے ادبی بھی ہے۔
- (۱) وفی التجنیس وھل یکرہ تأخیرھا عن وقت القرائۃ؟ ذکر فی بعض المواضع أنہ إذا قرأھا فی الصلاۃ فتأخیرھا مکروہ وإن قرأھا خارج الصلاۃ لَا یکرہ تأخیرھا وذکر الطحاوی ان تأخیرھا مکروہ مطلقًا وھو الأصح وھی کراھۃ تنزیھیۃ فی غیر الصلاتیۃ، لأنھا لو کانت تحریمیۃً لکان وجوبھا علی الفور ولیس کذالک۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۲۹)۔

