بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌تلاوت

سجدۂ‌تلاوت‌کی‌ادائیگی‌کی‌شرائط

سوال:۔

جمعہ کو محلہ میں ختمِ قرآن کے موقع پر میری نظر ایک شخص پر پڑی جو کہ سجدے میں پڑا ہے، میں سمجھا یہ عصر کی نماز پڑھ رہا ہے، اور یہ سمجھا کہ یہ شخص شاید سمتِ قبلہ سے واقف نہیں، کیونکہ وہ قبلے سے مخالف یعنی مشرق کی طرف سجدہ کر رہا تھا، میں نے قریب بیٹھے لوگوں سے اس کی سمتِ قبلہ نہ ہونے کی طرف توجہ دِلائی، چونکہ وہ نماز نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ ’’سجدۂ تلاوت‘‘ کر رہا تھا، خود بھی فوراً بول اُٹھا کہ میں تو سجدۂ تلاوت کر رہا تھا، اور یہ جس سمت میں بھی ادا کیا جائے، صحیح ہے، اور قبلے کا تعین اور قبلے کو منہ نہ کرکے بھی ادا ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور شخص نے بھی اس کی تائید کردی کہ ہاں سجدۂ تلاوت ہر طرف جائز ہے، اور قبلے کی طرف منہ نہ بھی ہو تو اَدا ہوجاتا ہے۔ آپ بتائیں کہ صحیح مسئلہ کیا ہے؟

جواب:۔

سجدۂ تلاوت کے جواز کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو نماز کے لئے شرط ہیں، یعنی بدن کا پاک ہونا، جگہ کا پاک ہونا، کپڑوں کا پاک ہونا، ستر کا چھپانا، قبلہ رُخ ہونا، اِستقبالِ قبلہ کے بغیر سجدۂ تلاوت ادا نہیں ہوتا۔(۱)

  1. (۱) فإذا قرأ آیۃ السجدۃ ۔۔۔ فإنہ یجب علیہ أن یسجد بشرائط الصلاۃ إلّا التحریمۃ سجدۃ بین تکبیرتین مستجبتین ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ج:۱ ص:۴۹۸)، لَا یجوز لأحد أداء فریضۃ ولَا نافلۃ ولَا سجدۃ تلاوۃ ولَا صلاۃ جنازۃ إلّا متوجھا إلی القبلۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۳)۔ ایضاً حوالہ بالا۔