بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

نفل‌نماز‌کی‌جماعت‌کرنا

سوال:۔

اگر مسجد میں رمضان المبارک میں تراویح کے بعد اس طریقہ پر نفل کی جماعت کی جائے کہ حافظ تبدیل ہوتا رہے اور مقتدیوں کی تعداد پانچ چھ ہو، بغیر لاؤڈاسپیکر کے پورا قرآن سنایا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب:۔

نفل کی نماز باجماعت ادا کرنا جبکہ مقتدی تین یا اس سے زیادہ ہوں، حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے۔(۱) عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جن حفاظ کو تراویح کے بعد قرآن سنانا ہوتا ہے، وہ اتنی رکعتیں تراویح کی چھوڑ دیتے ہیں، اگر اِمام تراویح پڑھا رہا ہو اور مقتدی نفل پڑھنے والے ہوں تو بغیر کراہت کے جائز ہے،(۲) واللہ اعلم!

  1. (۱) وقیدہ فی الکافی بأن یکون علٰی سبیل التداعی أما لو اقتدیٰ واحد بواحد أو إثنان بواحد لَا یکرہ وإذا اقتدی ثلاثۃ بواحد اختلفوا فیہ وإن اقتدیٰ أربعۃ بواحد کرہ إتفاقًا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۷۵)۔
  2. (۲) وکرہ أن یؤم فی التراویح مرتین فی لیلۃ واحدۃ، وعلیہ الفتویٰ لأن السُّنَّۃ لَا تتکرر فی الوقت الواحد، فتقع الثانیۃ نفلًا مضمرات، بخلاف ما لو صلاھا مأمومًا مرتین لَا یکرہ کما لو أم فیھا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۲۲۴، فصل فی التراویح)۔ أیضًا: إمام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لَا یجوز کذا فی محیط السرخسی والفتویٰ علٰی ذالک کذا فی المضمرات والمقتدی إذا صلاھا فی مسجدین لَا بأس بہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۶، حلبی کبیر ص: ۴۰۸، ردالمحتار ج:۲ ص:۴۶)۔