نفلنمازیں
شبِبرأتمیںباجماعتنفلنمازجائزنہیں
سوال:۔
حالیہ شبِ برأت میں ایک مسجد میں بعد نمازِ مغرب چھ رکعت نماز، دو دو رکعت کی ترتیب سے نفل باجماعت ادا کی گئی اور اختتام پر سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت ہوئی، پھر طویل اجتماعی دُعا مانگی گئی، پھر تقریباً ۳بجے تہجد کی نفلیں بھی باجماعت ادا کی گئیں، کچھ لوگوں کے اعتراض کرنے پر قبلہ اِمام صاحب نے اسی نفل باجماعت کی حمایت میں جمعہ کی تقریر میں فرمایا کہ یہ حدیث شریف سے ثابت ہے اور مشکوٰۃ شریف کے فلاں فلاں صفحے پر حوالہ ہے۔ گزارش خدمت ہے کہ ان نوافلِ شبِ برأت کی اصل حقیقت سے آگاہ فرمائیں، تاکہ اگر یہ اختراع تھی تو اسے آئندہ سے روک دیا جائے، نہیں تو پھر ہر شبِ برأت پر اس کو معمول بنالیا جائے، اور اہتمام اس کی ادائیگی کا ہو۔
جواب:۔
شبِ برأت میں اجتماعی نوافل ادا کرنا بدعت ہے،(۱) اِمام صاحب نے مشکوٰۃ شریف کا جو حوالہ دیا ہے، وہ ان کی غلط فہمی ہے، مشکوٰۃ شریف میں ایسی کوئی روایت نہیں جس میں شبِ برأت میں نوافل باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
- (۱) ویکرہ الْإقتداء فی صلٰوۃ رغائب وبرائۃ وقدر ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: قولہ وبرائۃ ھی لیلۃ النصف من شعبان ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۴۹، باب الوتر والنوافل)۔

