بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

تحیۃ‌المسجد‌کا‌حکم‌اور‌تعیین‌اوقات

سوال:۔

حدیث شریف ہے کہ جب آپ مسجد میں جائیں تو وہاں دو رکعت ادا کریں۔ کیا یہ دو رکعتیں مسجد میں ہر نماز کے ساتھ ضروری ہیں یا کسی نئی مسجد میں نماز یا کسی کی رُوح کے ایصالِ ثواب کے لئے جائیں تب پڑھیں؟

جواب:۔

آدمی کسی مسجد میں جائے تو دو رکعت تحیۃ المسجد کے اِرادے سے پڑھنا چاہئے، لیکن شرط یہ ہے کہ نماز کا وقت بھی ہو، مثلاً: عصر کے بعد غروب سے پہلے نفل پڑھنا صحیح نہیں، اسی طرح فجر کی نماز کے بعد اِشراق سے پہلے نفل پڑھنا دُرست نہیں، اور نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ الغرض یہ دیکھ لیا جائے کہ اس وقت نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔۔۔؟(۱)

  1. (۱) (ویسن تحیّۃ المسجد وھی رکعتان) وفی الشامیۃ: بحر عن الحلیۃ ثم قال وقد حکی الْإجماع علٰی سنّیتھا غیر أن أصحابنا یکرھونھا فی الأوقات المکروھۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۱۸)۔ مسألۃ: الأوقات المنھی عن الصلاۃ فیھا: قال أبو جعفر ولَا یصلی أحد عند طلوع الشمس، وعند الزوال، وعند الغروب ۔۔۔ فالأصل ما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ لَا یتحریٰ أحدکم فیصلی عند طلوع الشمس، ولَا عند غروبھا، فإنھا تطلع بین قرنی شیطان، وحدیث عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ: نھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن نصلی فی ثلاث ساعات وان نقبر فیھن موتانا: عند طلوع الشمس، وعند الزوال، وعند الغروب۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۲۷، ۵۲۸)۔