نفلنمازیں
مغربکینمازسےپہلےتحیۃالمسجدپڑھنا
سوال:۔
حرم اور مسجدِ نبوی کے علاوہ پورے سعودیہ میں مغرب کی نماز اَذان کے دس منٹ بعد ادا کی جاتی ہے، اور اس وقفے میں آنے والے تحیۃ المسجد دو نفل ادا کرتے ہیں، ہم حنفی بھی دو نفل تحیۃ المسجد مغرب کی اَذان کے بعد ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بعض حنفی کہتے ہیں کہ سورج غروب ہونے کے بعد آپ نفل ادا کرسکتے ہیں۔
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی فرض نماز ادا کرنے سے قبل نوافل پڑھنا اس وجہ سے مکروہ ہے کہ اس سے مغرب کی نماز میں تأخیر ہوتی ہے، ورنہ بذاتِ خود وقت میں کوئی کراہت نہیں،(۱) آپ کے یہاں چونکہ مغرب سے پہلے نوافل کا معمول ہے اور جماعت میں تأخیر کی جاتی ہے، اس لئے تحیۃ المسجد پڑھ لینے میں مضائقہ نہیں۔
- (۱) وتعجیل مغرب مطلقًا وتأخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھًا ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۱ ص:۳۶۹)، وأیضًا: تسعۃ أوقات یکرہ فیھا النوافل وما فی معناھا لَا الفرائض ۔۔۔ منھا ما بعد غروب الشمس قبل صلٰوۃ المغرب ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۵۳، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل)۔

