بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

کیا‌عورت‌تحیۃ‌الوضو‌پڑھ‌سکتی‌ہے؟

سوال:۔

اگر عورت پانچ نمازوں کی پابند ہے، کیا وہ پانچوں نمازوں میں تحیۃ الوضو پڑھ سکتی ہے؟ اور کیا عصر اور فجر کی نماز سے پہلے تحیۃ الوضو پڑھ سکتی ہے؟

جواب:۔

ظہر، عصر اور عشاء سے پہلے پڑھ سکتی ہے، صبحِ صادق کے بعد سے نمازِ فجر تک صرف فجر کی سنتیں پڑھی جاتی ہیں، دُوسرے نوافل دُرست نہیں،(۱) سنتوں میں تحیۃ الوضو کی نیت کرلینے سے وہ بھی ادا ہوجائے گا،(۲) اور مغرب سے پہلے پڑھنا اچھا نہیں، کیونکہ اس سے نمازِ مغرب میں تأخیر ہوجائے گی، اس لئے نمازِ مغرب سے پہلے بھی تحیۃ الوضو کی نماز نہ پڑھی جائے،(۳) بہرحال اس مسئلے میں مرد و عورت کا ایک ہی حکم ہے۔

  1. (۱) وکذا الحکم من کراھۃ نفل وواجب لغیرہ ۔۔۔ بعد طلوع فجر سوی سنتہ لشغل الوقت بہ۔ (التنویر وشرحہ ج:۱ ص:۳۷۵)۔ أیضًا: فصل (وقتان یصلی فیھما الفرض دون النفل) أما بعدِ العصر، وبعد الفجر فإنما ینھی فیھما عن النوافل والنذور وصلٰوۃ الطواف ویجوز فیھما فعل الفرض، وذالک لما روی أبو سعید الخدری، ومعاذ بن عفراء، وابن عمر، وأبوھریرۃ رضی اللہ عنھم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن صلاتین بعد الصبح وبعد العصر ۔۔۔ وقال ابن عباس رضی اللہ عنھما: حدثنی رجال مرضیون، وأرضاھم عمر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الصلاۃ بعد الفجر حتّٰی تطلع الشمس، وبعد العصر حتّٰی تغرب۔ (شرح مختصر الطحاوی للإمام أبو بکر الجصاص الرازی ج:۱ ص:۵۳۶، ۵۳۷)۔
  2. (۲) قال فی النھر: وینوب عنھا کل صلاۃ صلاھا عند الدخول فرضًا کانت أو سنۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی مطلب فی تحیۃ المسجد ج:۲ ص:۱۸)۔
  3. (۳) وتعجیل مغرب مطلقًا وتأخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھًا ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۱ ص:۳۶۹)، وأیضًا: تسعۃ أوقات یکرہ فیھا النوافل وما فی معناھا لَا الفرائض ۔۔۔ منھا ما بعد غروب الشمس قبل صلٰوۃ المغرب ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۵۳، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل)۔