بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

فرض‌نمازوں‌سے‌پہلے‌نمازِ‌استغفار‌اور‌شکرانہ‌پڑھنا

سوال:۔

نمازِ فجر، ظہر اور عصر سے پہلے دو رکعات نفل نماز اِستغفار اور دو رکعت نماز نفل شکرانہ روزانہ پڑھنا جائز ہے یا نماز کے بعد؟

جواب:۔

یہ نمازیں ظہر اور عصر سے پہلے پڑھنے میں تو کوئی اِشکال نہیں، البتہ فجر سے پہلے اور صبحِ صادق کے بعد سوائے فجر کی دو سنتوں کے اور نوافل پڑھنا دُرست نہیں۔(۱)

  1. (۱) وکذا الحکم من کراھۃ نفل وواجب لغیرہ ۔۔۔ بعد طلوع فجر سوی سنتہ لشغل الوقت بہ۔ (التنویر وشرحہ ج:۱ ص:۳۷۵)۔ أیضًا: فصل (وقتان یصلی فیھما الفرض دون النفل) أما بعدِ العصر، وبعد الفجر فإنما ینھی فیھما عن النوافل والنذور وصلٰوۃ الطواف ویجوز فیھما فعل الفرض، وذالک لما روی أبو سعید الخدری، ومعاذ بن عفراء، وابن عمر، وأبوھریرۃ رضی اللہ عنھم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن صلاتین بعد الصبح وبعد العصر ۔۔۔ وقال ابن عباس رضی اللہ عنھما: حدثنی رجال مرضیون، وأرضاھم عمر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الصلاۃ بعد الفجر حتّٰی تطلع الشمس، وبعد العصر حتّٰی تغرب۔ (شرح مختصر الطحاوی للإمام أبو بکر الجصاص الرازی ج:۱ ص:۵۳۶، ۵۳۷)۔