بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

اِشراق‌کی‌نماز‌جہاں‌فجر‌پڑھی‌ہو،‌وہیں‌پڑھنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

فجر کی نماز ایک مسجد میں پڑھی، پھر کسی کام سے مسجد سے باہر جانا ہوا، اِشراق کی نماز دُوسری مسجد میں یا گھر پر پڑھ سکتے ہیں یا کہ اسی مسجد میں بیٹھے رہیں؟

جواب:۔

اگر کسی ضرورت سے جانا پڑے تو دُوسری جگہ بھی اِشراق کی نماز پڑھ سکتے ہیں، خواہ گھر پر پڑھیں یا کسی اور مسجد میں۔ البتہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور پھر اپنی جگہ بیٹھا رہے، یہاں تک کہ اِشراق کا وقت ہوجائے، اور پھر اُٹھ کر دو رکعتیں یا چار رکعتیں اِشراق کی نماز پڑھے، تو اس کو ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔(۱)

  1. (۱) من صلی الفجر فی جماعۃ ثم قعد یذکر اللہ تعالٰی حتّٰی تطلع الشمس، ثم صلّی رکعتین کانت لہ کأجر حجۃٍ وعمرۃٍ تامۃٍ تامۃ تامۃ۔ (کنز العمال ج:۷ ص:۸۰۸، أیضًا: مشکٰوۃ ص:۸۹، باب الذکر بعد الصلاۃ)۔