نفلنمازیں
شادیوغیرہکےلئےاِستخارہکرنا
سوال:۔
کوئی بھی کام کرنے سے پہلے کسی بزرگ سے اِستخارہ کرایا جاتا ہے یا خود کیا جاتا ہے، مثلاً: شادی کے لئے یا مکان، پلاٹ خریدنے کے لئے، تجارت میں لین دین یا پھر ملازمت کے لئے۔ بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ فال کھلواتے ہیں، کچھ لوگ تو سڑک پر طوطے لے کر بیٹھے رہتے ہیں، کیا فال کھلوانا شرعی لحاظ سے دُرست ہے یا نہیں؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
جواب:۔
سنت طریقے کے مطابق اِستخارہ تو مسنون ہے، حدیث شریف میں اس کی ترغیب آئی ہے،(۱) اور فال کھلوانا ناجائز ہے۔(۲)
- (۱) عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الْإستخارۃ فی الأمور کلھا کما یعلمنا السورۃ من القرآن یقول: إذا ھم أحدکم بالأمر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم لیقل: اللّٰھم إنی أستخیرک ۔۔۔إلخ۔ (سنن ترمذی ج:۱ ص:۶۲، باب ما جاء فی الْإستخارۃ، أیضًا: رد المحتار ج:۲ ص:۲۶، باب الوتر والنوافل)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا عدوی ولَا طیرۃ ولَا ھامۃ ولَا صفر ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۹۱، باب الفال والطیرۃ، الفصل الأوّل)۔

