بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

کیا‌شادی‌کے‌لئے‌اِستخارہ‌کرنا‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

آج کل شادی بیان کے معاملات میں لوگوں کو جب اِنکار کرنے کے لئے کوئی بہانا نہیں مل پاتا تو یہ کہہ کر اِنکار کردیتے ہیں کہ ہم نے ’’اِستخارہ‘‘ کروایا تھا، جس میں پتا چلا ہے کہ یہ شادی صحیح ثابت نہیں ہوسکتی، اور اس بنا پر اِنکار کردیا جاتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا شادی کے معاملے میں اِستخارہ ضروری ہے؟ اِستخارہ کس طرح کیا جانا چاہئے؟ خود کرنا چاہئے یا کسی اور کے ذریعے کروانا چاہئے؟ اور اِستخارہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

جواب:۔

اِستخارہ کرنے کا طریقہ صحیح ہے، اور شادی کے معاملے میں اِستخارہ ضرور کرلینا چاہئے، اس کا طریقہ ’’بہشتی زیور‘‘ میں لکھا ہے، اس کے مطابق عمل کیا جائے۔(۱)

’’اللّٰھم إنّی أستخیرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظیم، فإنک تقدر ولَا أقدر، وتعلم ولَا أعلم، وأنت علّام الغیوب، اللّٰھم إن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر خیر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاقدرہ ویسرہ لی، ثم بارک لی فیہ، وإن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر شر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاصرفہ عنّی واصرفنی عنہ، واقدر لی الخیر حیث کان ثم أرضنی بہ‘‘

اور جب ’’ھذا الأمر‘‘ پر پہنچے، جس لفظ پر لکیر بنی ہے، اس کے پڑھتے وقت اسی کام کا دھیان (خیال) کرے جس کے لئے اِستخارہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد پاک صاف بچھونے پر قبلے کی طرف منہ کرکے باوضو سوجائے، جب سوکر اُٹھے، اس وقت جو بات دِل میں مضبوطی سے آئے وہی بہتر ہے، اسی کو کرنا چاہئے۔ (بہشتی زیور، حصہ دوم ص:۱۳۵، اِستخارے کی نماز کا بیان)۔

  1. (۱) بہشتی زیور کی عبارت یہ ہے: مسئلہ۲:- اِستخارے کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل پڑھے، اس کے بعد خوب دِل لگاکے یہ دُعا پڑھے: