نفلنمازیں
کیاہرعملسےپہلےاِستخارہکرواناضروریہے؟
سوال:۔
کیا ہر عمل سے پہلے اِستخارہ کروانا ضروری ہے؟ یا کسی عمل کے بارے میں تردّد ودِل کے عدم اِطمینان کی صورت ہی میں اِستخارہ کروانا چاہئے؟
جواب:۔
اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اہم کام کے لئے اِستخارہ کیا جاتا ہے، اور اِستخارہ کروایا نہیں جاتا، بلکہ خود اِستخارہ کرنے کا حکم ہے۔(۱)
- (۱) عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الْإستخارۃ فی الأمور کلھا کما یعلمنا السورۃ من القرآن یقول: إذا ھم أحدکم بالأمر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم لیقل: اللّٰھم إنی أستخیرک ۔۔۔إلخ۔ (سنن ترمذی ج:۱ ص:۶۲، باب ما جاء فی الْإستخارۃ، أیضًا: رد المحتار ج:۲ ص:۲۶، باب الوتر والنوافل)۔

