نفلنمازیں
اِستخارےکودُہراناکیساہے؟نیزکیااِستخارےکاجوابآناضروریہے؟
سوال:۔
اِستخارے کے نتیجے کی صورت میں جواب کے نہ میں آنے، جواب کے ہاں میں آنے، یا کوئی جواب نہ آنے کی صورت میں، کیا اسے دُہرایا جاسکتا ہے؟ اگر دُہرانا چاہئے تو کیا ایک ہی آدمی سے دوبارہ درخواست کی جائے یا کسی اور سے رُجوع کرنا چاہئے؟
جواب:۔
اِستخارے کا جواب آنا ضروری نہیں، بلکہ اِستخارے کے بعد جس طرف دِل کا رُجحان ہو، اس کو کرلیا جائے، تین دن، سات دن، چالیس دن بھی بعض اکابر اِستخارہ کرتے رہے ہیں۔(۱)
- (۱) وینبغی أن یکررھا سبعًا لما روی ابن السنی یا أنس! إذا ھممت بأمر فأستخر ربک فیہ سبع مرات ثم انظر إلی الذی سبق إلٰی قلبک فإن الخیر فیہ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷، باب الوتر والنوافل، مطلب فی صلاۃ التسبیح)۔

