بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

سنت‌کے‌مطابق‌اِستخارہ‌کیا‌جائے

سوال:۔

اسلام میں کسی بھی کام کے شروع کرنے کے سلسلے میں اِستخارہ کرنے کو کہا گیا ہے جو کہ تین، پانچ، سات دن تک ہوتا ہے، میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ اگر اِستخارے میں کچھ محسوس نہ ہو (جیسا کہ کوئی چیز نظر آتی ہے یا دِکھائی دیتی ہے) تب کیا کیا جائے؟ کیسے فیصلہ کیا جائے؟

جواب:۔

سنت کے مطابق اِستخارہ کیا جائے (بہشتی زیور میں اس کا طریقہ لکھا ہے)، اور پھر جس طرف دِل کا رُجحان ہو، وہ کام کرلیا جائے، اِن شاء اللہ اس میں خیر وبرکت ہوگی۔ اِستخارے میں کسی چیز کا نظر آنا ضروری نہیں، فیصلے کے لئے ایک طرف رُجحان کافی ہے، سو فیصد اِطمینان ضروری نہیں۔(۱)

  1. (۱) وإذا استخار مضٰی لما ینشرح لہ صورہ وینبغی أن یکررھا سبع مرات لما روی ابن السنی عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یا أنس! إذا ھممت بأمر فاستخر ربک فیہ سبع مرات، ثم انظر إلی الذی سبق إلٰی قلبک فإن الخیر فیہ۔ (حلبی کبیر ص:۴۳۱، تتمات من النوافل، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔