بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

نمازِ‌اِستخارہ‌کا‌طریقہ،‌نیت‌اور‌کون‌سی‌سورتیں‌پڑھیں؟

سوال:۔

نمازِ اِستخارہ پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟ اس کی نیت کس طرح ہے؟ اور دورانِ نماز کون کون سی آیات پڑھنی چاہئیں؟ اور نمازِ تہجد پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟ اور اس میں کون کون سی آیات پڑھنی چاہئیں؟

جواب:۔

نمازِ اِستخارہ دو رکعت نفل ہے، اس کے بعد حمد وثنا اور اِستغفار کیا جاتا ہے، اور اِستخارے کی دُعا پڑھی جاتی ہے، وہ مشہور ہے، کسی کتاب مثلاً: بہشتی زیور میں دیکھ لیا جائے۔(۱) نمازِ تہجد کا کوئی خاص طریقہ نہیں، ۴، ۶، ۸، ۱۰، ۱۲ جتنی رکعتیں پڑھ سکتے ہوں، پڑھیں، اور ان میں جو سورتیں یاد ہوں پڑھیں۔

’’اللّٰھم إنّی أستخیرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظیم، فإنک تقدر ولَا أقدر، وتعلم ولَا أعلم، وأنت علّام الغیوب، اللّٰھم إن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر خیر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاقدرہ ویسرہ لی، ثم بارک لی فیہ، وإن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر شر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاصرفہ عنّی واصرفنی عنہ، واقدر لی الخیر حیث کان ثم أرضنی بہ‘‘

اور جب ’’ھذا الأمر‘‘ پر پہنچے، جس لفظ پر لکیر بنی ہے، اس کے پڑھتے وقت اسی کام کا دھیان (خیال) کرے جس کے لئے اِستخارہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد پاک صاف بچھونے پر قبلے کی طرف منہ کرکے باوضو سوجائے، جب سوکر اُٹھے، اس وقت جو بات دِل میں مضبوطی سے آئے وہی بہتر ہے، اسی کو کرنا چاہئے۔ (بہشتی زیور، حصہ دوم ص:۱۳۵، اِستخارے کی نماز کا بیان)۔

  1. (۱) اِستخارے کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل پڑھے، اس کے بعد خوب دِل لگاکے یہ دُعا پڑھے: