بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

اہم‌اُمور‌سے‌متعلق‌اِستخارہ

سوال:۔

زندگی کے تمام اہم اُمور کے متعلق فیصلے کرنے سے قبل کیا اِستخارہ کرنا واجب ہے؟

جواب:۔

اِستخارہ واجب نہیں، البتہ اہم اُمور پر اِستخارہ کرنا مستحب ہے، حدیث میں ہے:

’’عَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللّٰهُ لَهُ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللّٰهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللّٰهُ لَهُ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۵۳)

ترجمہ:۔ ’’ابنِ آدم کی سعادت میں سے ہے اس کا راضی ہونا اس چیز کے ساتھ جس کا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے فیصلہ فرمایا، اور ابنِ آدم کی بدبختی سے ہے اس کا اللہ تعالیٰ سے اِستخارے کو ترک کردینا، اور ابنِ آدم کی بدبختی میں سے ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر کے فیصلے سے ناراض ہونا۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۴۵۳ بروایت مسند احمد وترمذی)

ایک اور حدیث میں ہے:

’’مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ إِلَى اللّٰهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللّٰهِ۔‘‘ (مستدرک حاکم ج:۱ ص:۵۱۸)

ترجمہ:۔ ’’اللہ سے اِستخارہ کرنا ابنِ آدم کی سعادت میں داخل ہے، اور اس کا اللہ تعالیٰ سے اِستخارہ کرنے کو ترک کردینا اس کی شقاوت میں داخل ہے۔‘‘