نفلنمازیں
اِستخارےکیحقیقت
سوال:۔
حدیث شریف میں ہے کہ اِستخارہ کرنا مؤمن کی خوش بختی ہے اور نہ کرنے والا بدبخت ہے۔ اور طریقہ اِستخارے کا یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی دو رکعت نماز نفل پڑھے اور پھر دُعائے اِستخارہ پڑھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ نفل پڑھنے اور دُعائے اِستخارہ کے بعد کیا آدمی اس مقصد کے لئے نکل کھڑا ہو جس کے لئے اِستخارہ کیا ہو؟ مثلاً: ایک شخص کوئی مکان خریدنا چاہتا ہے، کیا وہ اِستخارے کے بعد جاکر مکان کی بابت بات کرلے یا کہ اللہ تعالیٰ اسے اِستخارہ کرنے کے بعد خواب میں کچھ اشارہ دیں گے یا دِل میں ایسا خیال پیدا کریں گے کہ وہ بعد میں مکان خریدنے کے لئے نکلے۔
بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جو کام یا مقصد ہو، آدمی تین یا سات دن اِستخارہ کرے، اس عرصے میں یا تو اسے خواب آجائے گا یا پھر اللہ تعالیٰ دِل میں ایسا خیال پیدا کردے گا کہ کام کرو یا نہ کرو، لیکن اگر ایسا ہے تو پھر خواب وغیرہ کا ذکر حدیث پاک میں کیوں نہیں ہے؟ مجھ سے ایک جماعت کے شخص نے کہا ہے کہ خواب وغیرہ کچھ نہیں آتا، پس تم اپنے مقصد کے لئے اِستخارہ کرو اور پھر اس مقصد کے لئے روانہ ہوجاؤ، اللہ نے بہتر کرنا ہوگا تو وہ مقصد تمہیں فوراً حاصل ہوجائے گا، ورنہ ایسی رُکاوٹ ڈال دے گا کہ تم سمجھ جاؤگے کہ اللہ کو تمہارے لئے یہی منظور ہے کہ یہ کام نہ ہو، بہرحال آپ بتائیے، شکریہ۔
جواب:۔
اِستخارے کی حقیقت ہے اللہ تعالیٰ سے خیر کا طلب کرنا اور اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا کہ اگر یہ بہتر ہو تو اللہ تعالیٰ میسر فرمادیں، بہتر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہٹادیں۔ اِستخارے کے بعد خواب کا آنا ضروری نہیں، بلکہ دِل کا رُجحان کافی ہے۔ اِستخارے کے بعد جس طرف دِل کا رُجحان ہو، اس کو اِختیار کرلیا جائے۔ اگر خدانخواستہ کام کرنے کے بعد محسوس ہو کہ یہ اچھا نہیں ہوا، تو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اسی میں بہتری ہوگی، کیونکہ بعض چیزیں بظاہر اچھی نظر آتی ہیں مگر وہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتیں، اور بعض ناگوار ہوتی ہیں مگر ہمارے لئے انہی میں بہتری ہوتی ہے۔
الغرض! اِستخارے کی حقیقت کامل تفویض و توکل اور قضا و قدر کے فیصلوں پر رضامند ہوجانا ہے۔(۱)
- (۱) وعن جابر قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الْإستخارۃ أی طلب تیسر الخیر فی الأمرین من الفعل أو الترک من الخیر وھو ضد الشر فی الأمور أی التی نرید الْإقدام علیھا مباحۃ کانت أو عبادۃ ۔۔۔ ویمضی بعد الْإستخارۃ لما ینشرح لہ صدرہ إنشراحًا خالیًا عن ھویٰ النفس فإن لم ینشرح لشیء فالذی یظھر أنہ یکرر الصلاۃ حتّٰی یظھر لہ الخیر قیل إلٰی سبع مرات۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۲ ص:۱۸۷، باب التطوع)۔

