نفلنمازیں
صلوٰۃالتسبیحکیجماعتجائزنہیں
سوال:۔
صلوٰۃ التسبیح کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ باجماعت پڑھنا جائز ہے یا غلط؟ میں اور میرے بہت سے پاکستانی، ترکی ساتھی تقریباً پانچ سال سے اپنے کیمپ میں باجماعت ادا کرتے ہیں، اسی سال ۱۵؍شعبان شبِ برأت والی رات ہمارے ایک ساتھی صوفی صاحب نے اعتراض کیا کہ: ’’چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلوٰۃ التسبیح باجماعت ثابت نہیں ہے، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ باجماعت ادا کریں، تو پھر ہمیں باجماعت نہیں پڑھنی چاہئے، بلکہ انفرادی طور پر پڑھنی چاہئے۔‘‘ باجماعت پڑھنے کا ہمارا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جو اَن پڑھ ساتھی ترتیب وار ۷۵ دفعہ تسبیح نہ پڑھ سکیں وہ بھی ادا کرسکیں۔
جواب:۔
شریعت نے عبادت کو جس انداز میں مشروع کیا ہے، اس کو اسی طریقے سے ادا کرنا مطلوب ہے، شریعت نے نمازِ پنج گانہ اور جمعہ و عیدین وغیرہ کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نوافل کو اِنفرادی عبادت تجویز کیا ہے، اس لئے کسی نفلی نماز (خواہ صلوٰۃ التسبیح ہو یا کوئی اور) جماعت سے ادا کرنا منشائے شریعت کے خلاف ہے، اس لئے حضراتِ فقہاء نے نفل نماز کی جماعت کو (جبکہ مقتدی دو سے زیادہ ہوں) مکروہ لکھا ہے، اور خاص راتوں میں اِجتماعی نماز اَدا کرنے کو بدعت قرار دیا ہے،(۱) اس لئے صلوٰۃ التسبیح کا جماعت سے ادا کرنا صحیح نہیں۔ اور آپ نے جو مصلحت لکھی ہے، وہ لائقِ التفات نہیں، جس کو صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا شوق ہو اس کو ان کلمات کا یاد کرلینا اور ترتیب کا سیکھ لینا کیا مشکل ہے۔۔۔؟
- (۱) وبعد ذٰلک فالصلٰوۃ خیر موضوع ما لم یلزم منھا ارتکاب کراھۃ، واعلم ان النفل بالجماعۃ علٰی سبیل التداعی مکروہ ۔۔۔ فعلم ان کلًا من صلاۃ الرغائب ۔۔۔ بالجماعۃ بدعۃ مکروھۃ۔ (حلبی کبیر ص:۴۳۲، طبع لَاھور)۔

