بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

صلوٰۃ‌التسبیح‌کی‌جماعت‌بدعتِ‌حسنہ‌نہیں

سوال:۔

کافی تحقیق کے بعد بھی یہ پتا نہ چل سکا کہ صلوٰۃ التسبیح کبھی باجماعت پڑھی گئی ہو، کیا یہ نفل نماز جماعت سے پڑھی جاسکتی ہے یا اس فعل کو ’’بدعتِ حسنہ‘‘ میں شمار کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

جواب:۔

حنفیہ کے نزدیک نوافل کی جماعت مکروہ ہے، جبکہ مقتدی تین یا زیادہ ہوں، یہی حکم ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ کا ہے، اس کی جماعت بدعتِ حسنہ نہیں، بلکہ بدعتِ سیئہ ہے۔(۱)

  1. (۱) ولَا یصلی الوتر ولَا التطوع بجماعۃ خارج رمضان أی یکرہ ذٰلک علٰی سبیل التداعی بأن یقتدی أربعۃ بواحدۃ کما فی الدرر۔ (قولہ علٰی سبیل التداعی) ھو أن یدعو بعضھم بعضًا کما فی المغرب وفسرہ الوافی بالکثرۃ وھو لازم معناہ قولہ أربعۃ بواحدا أما اقتداء واحد بواحد أو اثنین بواحد فلا یکرہ وثلاثۃ بواحد فیہ خلاف بحر عن الکافی۔ (ردالمحتار علی در المختار ج:۲ ص:۴۹، مطلب فی کراھۃ الْإقتداء فی النفل علٰی سبیل التداعی)۔