بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

صلوٰۃ‌التسبیح‌کا‌کونسا‌طریقہ‌صحیح‌ہے؟

سوال:۔

مختلف کتابوں میں صلوٰۃ التسبیح کے ادا کرنے کے مختلف طریقے ہیں، تھوڑا سا فرق ہے، آدمی جو بھی طریقہ اپنائے اس سے یہ نماز اَدا کرسکتا ہے، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ صرف اس مخصوص تسبیح کو ۳۰۰ مرتبہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔

جواب:۔

آپ صحیح سمجھتے ہیں، صلوٰۃ التسبیح کے دو طریقے لکھے ہیں، اور دونوں صحیح ہیں۔(۱)

طریقۂ اوّل: عن أبی رافع قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للعباس: یا عَمّ! ألَا أصِلُک، ألَا احبُوک، ألَا أنفعک؟ قال: بلٰی یا رسول اللہ! قال: یا عَمّ! صل أربع رکعات تقرأ فی کل رکعۃ بفاتحۃ الکتاب وسورۃ، فإذا انقضت القرائۃ فقل: اللہ أکبر والحمد ﷲ وسبحان اللہ خمس عشرۃ مرۃ قبل أن ترکع، ثم ارکع فقلھا عشرًا، ثم أرفع رأسک فقلھا عشرًا، ثم اسجد فقلھا عشرًا، ثم ارفع رأسک فقلھا عشرًا، ثم اسجد فقلھا عشرًا، ثم ارفع رأسک فقلھا عشرًا قبل أن تقوم، فذالک خمس وسبعون فی کل رکعۃ، وھی ثلاث مائۃ فی أربع رکعات ۔۔۔إلخ۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۶۳، باب ما جاء فی صلٰوۃ التسبیح)۔

طریقۂ دوم: حدثنا أحمد بن عبدۃ الضبی نا أبو وھب قال: سألت عبداللہ بن المبارک عن الصلٰوۃ التی یسبح فیھا، قال: یکبّر، ثم یقول سبحانک اللّٰھم وبحمدک ۔۔۔ ثم یقول خمس عشرۃ مرۃ سبحان اللہ والحمدﷲ ولَا إلٰہ إلّا اللہ واللہ أکبر، ثم یتعوذ ویقرأ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم وفاتحۃ الکتاب وسورۃ، ثم یقول عشر مرات سبحان اللہ والحمدﷲ ۔۔۔ ثم یرکع فیقلھا عشرًا، ثم یرفع رأسہ فیقولھا عشرًا، ثم یسجد فیقولھا عشرًا، ثم یرفع رأسہ ویقولھا عشرًا، ثم یسجد الثانیۃ فیقولھا عشرًا، یصلی أربع رکعات علٰی ھٰذا، فذالک خمس وسبعون تسبیحۃ فی کل رکعۃ ۔۔۔إلخ۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۶۴، باب ما جاء فی صلٰوۃ التسبیح)۔

  1. (۱) الکیفیۃ ھی التی رواھا الترمذی فی جامعہ عن عبداللہ بن المبارک أحد أصحاب أبی حنیفۃ الذی شارکہ فی العلم والزھد والورع وعلیھا اقتصر فی القنیۃ وقال إنھا المختار من الروایتین ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷، طبع سعید)۔